انوارالعلوم (جلد 1) — Page 20
انوار العلوم جلد 1 ۲۰ محبت الهی یعنی انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہے اور وہ درد جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے اس کی باریک میں سے ایک خاص لذت اٹھائے ورنہ تابعداری اور اطاعت کے لئے فرشتے موجود ہی تھے ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ وہ اختیارات جو انسان کو دیئے گئے ہیں وہ کسی اور مخلوق کو نہیں دیئے گئے فرشتہ ایک مخلوق ہے کہ جس کا خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بہت ذکر کیا ہے اور جن کی معرفت خدا تعالیٰ اکثر اپنے بندوں پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے میں نے اکثر اس لئے کہا ہے کہ بزرگ اور اولیاء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ بلا کسی وسیلہ کے بھی خدا کا کلام انسان پر نازل ہوتا ۔ وتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ پر خاص طور سے مہربان ہوتا ہے جیسا کہ نبی کریم ا ایک ایسا نمونہ موجود ہیں کہ جو ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اور اگر چہ وہ فوت ہو گئے ہیں مگر پھر بھی ان کے معجزات ، نشانات اور پیشگوئیاں جو کہ ہر زمان اور ہر مکان میں پوری ہو رہی ہیں ایک ایسی حجت ہے کہ جو ہر وقت ہمارے سامنے نبی کریم کا زندہ وجود پیش کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ سے بلا کسی وسیلہ کے خدا تعالی نے کلام کیا۔ جیسا کہ معراج کے موقعہ پر اور دیگر بہت سے موقعوں پر اور یہی نہیں آپ تو بڑی شان کے آدمی تھے ۔ آپ کے ادنی غلاموں پر خدا تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ایسی شفقت فرمائی ہے کہ ان سے اس طرح بلا وسیلہ مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے۔ میں اس وقت یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ فرشتہ باوجود ایسی مقرب الہی مخلوق ہونے کے اس نعمت سے محروم ہے کہ اس کے دل میں محبت پیدا ہو محبت وہ چیز ہے جو کہ خود بخود ایک مخلوق کے دل میں پیدا ہو) اور فرشتہ جو خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے تو وہ کچھ ارادہ سے نہیں کرتا بلکہ اس کی خلقت میں ایسا رکھا گیا ہے اور اس کے برخلاف نہیں کر سکتا۔ مگر انسان بسا اوقات خدا تعالیٰ سے نفرت بھی کرتا ہے جیسا کہ دہریہ وغیرہ کیونکہ وہ اس ہستی کو مانتے ہی نہیں اور سرے ہی سے اس کا انکار کرتے اور لغو بیہودہ قرار دیتے ہیں۔ پس انسان کی محبت خدا سے اور فرشتہ کی محبت خدا سے ایک فرق رکھتی ہے۔ انسان ایک ارادہ اور خواہش سے اور محبت سے خدائی تعلق کرتا ہے تو فرشتہ بلا ارادہ اور محبت کے پس وہ تعلق اتنا قابل قدر نہیں جو کہ بلا کسی محبت کے ہو بلکہ وہ جو کہ ارادہ اور اختیار سے ہو زیادہ قابل قدر ہے اور یہ موخر الذکر تعلق صرف ایک انسان کو ہی نصیب ہے اور باقی مخلوقات پہلی قسم کا تعلق رکھتی ہے۔ یعنی انسان تو بعض دفعہ اپنے اسی اختیار کو جو کہ اس کو خداتعالیٰ نے عنایت کیا ہے کام میں لاکر اس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ گو یہ کام کیسا ہی ہوا اور اس کا نتیجہ کتنا ہی خطرناک ہو مگر ایسا واقعہ تو ہوتا ہے کہ