انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 460

انوار العلوم جلد ! ۴۶۰ سيرة النبي ال مگر اس اخلاق کے مقابلہ کے ساتھ عربوں کی آزادی کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے ۔ اس موقع پر میں ایک اور نظیر دینی بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جس سے مردوں کے علاوہ عورتوں کے اخلاص کا نمونہ بھی ظاہر ہو جائے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَى أَنْ يُذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ اَحَبَّ إِلَى أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ (بخاری کتاب المناقب باب ذکر ہند بنت عتبتہ ) یعنی ہند بنت عتبہ آئی اور اس نے حضرت رسول اللہ اللہ سے عرض کیا کہ یا رسول الله الله روئے زمین زیا پر کوئی خیمہ والا نہ تھا جس کی نسبت میں آپ پ ۔ سے زیادہ ذلت کی خواہشمند ہوں اور اب روئے زمین پر کوئی گھر والا نہیں جس کی نسبت میں آپ کے گھر والوں سے زیادہ عزت کی خواہشمند ہوں۔ اس عورت کی طرف دیکھو یا تو وہ بغض تھا یا ایسی فریفتہ ہو گئی اور اس کی وجہ سوائے ان اخلاق کریمہ اور اس نیکی اور تقویٰ کے کیا تھی جو آپ میں پائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بھی اس کی میں وجہ بیان فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران : ١٢٠) غرض کہ ان اخلاق حسنہ کا ایسا نیک اثر پڑا کہ ایک ایک کر کے تمام عرب قبیلے آپ کی خدمت میں احا ضر ہوئے ۔ بھلا اس واقعہ کا عمرو بن ہند کے واقعہ سے مقابلہ تو کر کے دیکھو بیس تفاوت راه از کجا است تا بکجا اس وقت تک تو میں رسول کریم کے اخلاق حسنہ کے متعلق آپ کی بیوی کی گواہی نے آنحضرت کے اخلاق حسنہ کو آپ کے صحابہ کی فدائیت سے ثابت کیا ہے اب ایک اور طریق سے اس امر پر روشنی ڈالتا ہوں۔ آدمی کا سب سے زیادہ تعلق اپنی بیوی سے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس روزانہ بہت سا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت سی ضروریات میں اس کے ساتھ مشارکت اختیار کرنی پڑتی ہے اس لئے یہ تو ممکن ہے کہ انسان باہر لوگوں کے ساتھ تکلف کے ساتھ نیک اخلاق کے ساتھ پیش آسکے اور ایک وقت کے لئے اس گند کو چھپالے جو اس کے اندر پوشیدہ ہو لیکن یہ بات بالکل نا ممکن ہے کہ کوئی اپنی برائیوں اور بد خلقیوں کو اپنی بیوی سے پوشیدہ رکھ سکے کیونکہ علاوہ ایک دائمی صحبت اور ہر وقت کے تعلق کے بیوی پر مرد کو کچھ اختیار بھی ہوتا ہے اور اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی فطری بد اخلاقی کا اکثر اوقات اس کے سامنے اظہار کر دیتا ہے۔ پس انسان کے