انوارالعلوم (جلد 1) — Page 457
انوار و العلوم جلد ا لدود سيرة النبي سمجھے گی جس پر بادشاہ نے ایک خط لکھ کر عمرو بن کلثوم کو بلوایا اور لکھا کہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لیتے آنا کیونکہ میری والدہ اسے دیکھنا چاہتی ہے۔ عمرو بن کلثوم اپنی والدہ اور چند اور معزز خواتین کو لے کر اپنے ہمراہیوں سمیت بادشاہ کے خط کے بموجب حاضر ہو گیا بادشاہ کی والدہ نے حسب مشورہ اس کی والدہ سے کچھ کام لینا تھا۔ دونوں زنان خانہ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ والدہ شاہ نے کسی موقع پر سادگی کے ساتھ کہہ دیا کہ ذرا فلاں قاب مجھے اٹھا دو ۔ عمرو بن کلثوم کی والدہ لیلی نے جواب دیا کہ جسے ضرورت ہو خود اٹھا لے۔ اس پر والدہ شاہ نے مکرر اصرار کیا لیکن لیلی نے بجائے اس حکم کی تعمیل کے زور سے نعرہ مارا کہ وا اَذِلَّاهُ يَا بَنِي تَغْلَبَ اے بنی تغلب دو رو کہ تمہاری ذلت ہو گئی ہے۔ اس آواز کا سننا تھا کہ اس کے بیٹے عمرو بن کلثوم کی آنکھوں میں تو خون اتر آیا ۔ بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا گھبرا اٹھا۔ چونکہ اپنے پاس تو کوئی ہتھیار نہ تھا ادھر ادھر دیکھا۔ بادشاہ کی تلوار کھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی اس کی طرف جھپٹا اور تلوار میان سے نکال کر ایک ہی وار سے بادشاہ کا سر اڑا دیا لیکن اس سے بھی جوش انتقام نہ اترا۔ باہر نکل کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ شاہی مال و متاع لوٹ لو۔ بادشاہ کی سپاہ تو غافل تھی اس کے سنبھلتے سنبھلتے لوٹ لاٹ کر صفایا کر دیا اور اپنے وطن کی طرف چلا آیا۔ چنانچہ اپنے ایک قصیدہ میں اس شاعر نے عمرو بن ہند کو مخاطب کر کے اپنے آزاد ہونے کا ذکر یوں کیا ہے :- ابًا مِنْدٍ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْنَا و أَنْظِرْنَا نُخَبِرُكَ الْيَقِينَا اے ابا ہند تو ہمارے معاملہ میں جلدی نہ کر اور ہمیں ڈھیل دے ہم تجھے یقینی بات بتائیں گے بانا نُورِدُ الرَّايَاتِ بِيْضًا وَنُصْدِرُ هُنَّ حُمْرًا قَدْ رَوِيْنَا وہ یہ کہ ہم سفید جھنڈوں کے ساتھ جنگ میں جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو رہ جھنڈے خون سے سرخ و سیراب ہوتے ہیں وَ أَيَّامٍ لَنَا غُرٍ طَوَالٍ عَصَيْنَا الْمَلِكَ فِيْهَا أَنْ نَدِينَا اور بہت سے ہمارے مشہور اور دراز معرکے ہیں کہ ہم نے ان میں بادشاہ کی نافرمانی کی تااس کے مطیع نہ ہو جائیں وَرِثْنَا الْمَجْدَ قَدْ عَلِمَتْ مَعَدَّ نُطَا مِن دُونَهُ حَتَّى يَبِينَا عرب جانتے ہیں کہ ہم بزرگی کے وارث ہیں اپنے شرف کے لئے لڑتے ہیں تاکہ وہ ظاہر ہو جائے الا لَا يَعْلَمُ الْأَقْوَامُ أَنَّا تَضَعُضَعْنَا وَإِنَّا قَدْ وَنَيْنَا خبردار تو ہمیں یہ نہ سمجھ کہ ہم کمزور اور ست و کاہل ہو گئے ہیں الا لا يَجْهَلَنْ اَحَدٌ عَلَيْنَا فَنَجْهَلَ فَوْقَ جَهْلِ الْجَاهِلِيْنَا