انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 455

انوار العلوم جلدا ۴۵۵ سيرة النبي ال ہیں کہ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيْهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جسده يبدأ بهما على رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتِ (بخاری کتاب التفسير باب فضل المعوذات) یعنی آپ ہر شب جب اپنے بستر پر جاتے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور پھونکتے اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدَّ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے۔ پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے بدن پر ہاتھ ملتے اور ابتداء سر اور منہ اور جسم کے اگلے حصہ سے فرماتے اور تین دفعہ ایسا ہی کرتے ۔ ذرا ان تین سورتوں کو با ترجمہ پڑھو اور پھر سوچو کہ رسول کریم اس کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غنا پر کتنا ایمان تھا۔ کس طرح وہ اللہ تعالی کی پناہ کے بغیر اپنی زندگی خطرہ میں سمجھتے تھے۔