انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 437

انوار العلوم جلدا ۴۳۷ اخبار فضل کا پر اسپکٹس XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX گا بلکہ لاکھوں کا باپ ہو گا اور ہزاروں لاکھوں نفوس اس سے اپنا تعلق پیدا کریں گے اور کوئی مخالف اس پر غالب نہ ہو سکے گا۔ لیکن جو جو خدا کا نشاء تھا پورا ہوا اور زمین نے ایک تازہ نشان دیکھا۔ اور وہ احمدی جماعت جس کے ۳۱۳ آدمیوں کی فہرست نہ پوری ہو سکتی جب تک کہ ۔ بچے اور عورتیں اس میں داخل نہ کئے جائیں۔ اب اس قدر ترقی کر گئی ہے کہ ایک ہزار آدمی قادیان میں ہی موجود ہے اور مجموعی طور سے چار لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جماعت کی ترقی جماعت کے ساتھ ضروریات بھی بڑھتی ہیں کے ساتھ ضروریات بھی ترقی کرتی جاتی ۴ ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ حضرت صاحب کی کتب کے شائع کرنے کے لئے ایک پریس کی ضرورت تھی۔ اور بہت مشکل کے ساتھ ایک پریس کھڑا کیا گیا تھا پھر حضرت صاحب نے ضروریات سلسلہ کیلئے ایک رسالہ نکالنا چاہا لیکن وہ اس وجہ سے رکا رہا کہ اس کے لینے والے نظر نہ آتے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی پریس یہاں کام کر رہے ہیں اور دو ہفتہ وار ایک پندرہ روزہ اور چار ماہوار رسالے یہاں سے نکل رہے ہیں اور پھر بھی ضروریات اس قدر بڑھ رہی ہیں کہ کئی معاملات ابھی توجہ کے قابل باقی ہیں کہ جن کی طرف یہ رسالہ اور اخبار توجہ نہیں کر سکتے ۔ یا تو وہ زمانہ تھا کہ ایک کرایہ کے مکان میں پندرہ سولہ لڑکے پڑھتے تھے ایک انٹرنس پاس ہیڈ ماسٹر تھا۔ اور اب جماعت اس حد تک ترقی کر گئی ہے کہ سینکڑوں طلباء سکول میں تعلیم پاتے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے خرچ سے بورڈنگ اور مدرسہ تیار کرنا پڑا ہے۔ اور بورڈ رڈنگ ابھی پورا نہ ہو چکا تھا کہ تنگ معلوم دینے لگا ایک انٹرنس پاس کردہ ہیڈ ماسٹر کی جگہ مولوی صدر الدین صاحب بی اے بی ٹی جیسا لائق آدمی اور مدرسین میں کئی دیگر گریجوایٹ کام کر رہے ہیں غرض کہ جماعت کے ساتھ اس کی ضروریات بھی بڑھتی چلی گئیں اور بڑھ رہی ہیں اور ان کا پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔ ان بڑھنے والی ضروریات میں سے ایک نئے اخبار کی ضرورت ایک نئے اخبار کی ضرورت ہے بے شک ایک وہ زمانہ تھا کہ جماعت قلیل تھی۔ اور پھر اکثر لوگ زمینداروں کے طبقہ میں سے تھے۔ لیکن اب علاوہ اس مخلص جماعت کی ترقی کے ہزاروں مخلص تعلیم یافتہ پیدا ہو گئے ہیں جن کے علوم کو وسعت دینے کے لئے اخبار کی اشد ضرورت ہے۔ پریس کی موجودہ آسانیوں نے ساری دنیا کی خبروں سے آگاہی کو ایک سہل الحصول امر بنا دیا ہے اس لئے علم دوست طبقہ اس فائدہ سے محروم رہنا پسند نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں اللہ