انوارالعلوم (جلد 1) — Page 424
انوار العلوم جلد 1 ۴۲۴ وس دلائل ہستی باری تعالی اسکی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو انکے کار آمد بنانے کیلئے سورج کی روشنی بھی دی تاکہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے کان دیئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرمائیں ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کر دی ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیوں کر پیدا ہو گیا اور ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تاکہ وہ اپنا کام کر سکیں اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دیئے تھے تو یہ کونسی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کر دی برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے یا ریچھوں کو تو اتفاق نے پیدا کر دیا لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں اتفاق ہی نے ان کے علاج بنا دیئے اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جسکے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے۔ دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ توالد کا سلسلہ بھی قائم کر دیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہیں رکھا انسان اگر پیدا ہوتا اور مرتا نہیں تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہو جاتا اس لئے اس کے ساتھ فنالگادی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔ کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرانہ جاویں کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیر محدود علم والا ہے اس۔ اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ایک ثبوت معلوم ہوتی ہیں مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہ مل جاتا تو کیا میں اس سے لکھ سکتا تھا شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دیئے مجھے علم دیا لکھنے کیلئے انگلیاں بھی دیں۔ سلطنتوں میں ہزاروں مدبر انکی درستی کیلئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہو جاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہو تا تو یہ انتظام نظر نہ