انوارالعلوم (جلد 1) — Page 15
انوار العلوم جلد ! ۱۵ چشمه توحید کہ جب تو صبر کرے گا تو ایک مدت کے بعد لوگ تیری طرف رجوع کریں گے کیوں کہ جب تو خدا کے لئے لوگوں سے علیحدہ ہو جاوے گا اور لوگ تجھ سے عداوت کریں گے تو آخر خد ا خلائق کا منہ تیری طرف پھیر دے گا یہاں تک کہ قریب ہے کہ تو ان سے کج خلقی کرے۔ پس ایسا مت کرو بلکہ چلو تو ایسی طرز سے کہ اس میں شیخی کی بو نہ پائی جاوے کیوں کہ یہ بات خدا کو پسند نہیں - واقصد فی مَشِيكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الأَمْوَاتِ لَصَوْتُ الحَمِيرِ یعنی میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز نرم اور نیچی کر کیوں کہ سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔ اس جگہ پر بھی بیان ہے کہ جب تو نبی ہو جائے اور لوگ تیری طرف دور دور سے آویں اور تو دوڑ کر گھر میں گھس جاوے تو ان کو کس قدر صدمہ ہو گا کہ ہم تو ملنے آئے اور یہ دوڑ کر گھر چلے گئے ۔ یا کوئی دور سے آیا تھا کہ کچھ کلام سنیں گے مگر یہاں تو نے ایسی اونچی اور کرخت آواز سے کلام کیا کہ اس کے دل کو برا لگا کیونکہ دیکھو گدھے کی اونچی آواز ہے مگر سب آوازوں سے بری معلوم ہوتی ہے۔ اس رکوع میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ تو پہلے شرک کو چھوڑا اور اس طرح گناہوں کو ترک کر کے عبادت کو قائم کر پھر جب تو گناہوں کو چھوڑ دے گا۔ اور نیکیاں کرے گا تو خدا کا برگزیدہ ہو جائے گا۔ پس دیکھو کہ خدا کے کلام سے ظاہر ہے کہ کل برائیوں کی جڑ یہی شرک ہے۔ اب میں یہ دعا کر کے بیٹھتا ہوں کہ خدا ہم کو پاک کرے ۔ ہمارے دل سے شرک کا زنگ دور کرے اور ہم کو توفیق دے کہ ہم بھی لقمان کی ان نصائح پر عمل کر سکیں ۔ آمین۔