انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 385

انوار العلوم جلدا ۳۸۵ مدارج تقوی → عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس کی نافرمانی کرنے والے کیسے ٹوٹے میں پڑتے ہیں۔ ابو جہل کی مثال صاف ہے کہ وہ اپنی عزت دو جاہت شوکت و قسمت پر کس قدر گھمنڈ رکھتا تھا۔ حتی کہ مرنے کے وقت بھی اس نے کہا میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹنا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ میں سردار ہوں۔ مگر ابن مسعودؓ نے کہا کہ میں تیری آخری خواہش بھی پوری نہیں ہونے دوں گا اور خوب رگڑ کر گردن کائی۔ اچھا یہ تو کئی سو سال کا واقعہ ہے۔ اسی زمانے میں دیکھ لو۔ خدا کا ایک مأمور آیا۔ اس کے مقابلہ میں ایک لاٹ مولوی اٹھا۔ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی لاہور میں جاتا اور انار کلی سے گزرتا تو اس کے استقبال و ملاقات کے لئے بے شمار آدم اکٹھا ہو جاتا۔ یہاں تک کہ ہندو بھی اپنی دوکانیں چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت اقدس جنہوں نے شاکر و محسن طبیعت پائی تھی- تحدیث نعمت کے طور پر اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سرائے میں جاکر میں ٹھہرا۔ چار پائی نہ ملی۔ اصطبل میں ایک جگہ ملی جہاں نیچے فرش پر رات کاٹنی پڑی۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ایک سکھ جو وہاں موجود تھا۔ ساری رات بڑبڑاتا رہا کہ یہ کہاں آگیا میں آگے ہی تنگ تھا۔ ایک وقت تو یہ تھا۔ یا اب یہ وقت بھی آیا کہ بغیر اس کے کہ پہلے اطلاع دی جائے ۔ ہر سٹیشن پر آدمیوں کے پرے کے پرے جم جاتے تھے ۔ موافق لوگوں کو تو خیر آنا ہی تھا مگر مخالف بھی کیا ہندوستانی کیا پنجابی کیا انگریز ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے اور جگہ نہ ملتی تھی۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ میں کسی طرح چہرہ دیکھ لوں۔ بر خلاف اس کے وہ مولوی جو کسی وقت ان زوروں پر تھا۔ میں نے اسے دیکھا ہے کہ ایک سٹیشن پر ایک گٹھڑی اٹھائے ہاتھوں میں کھانا پکڑے ریل کی طرف اکیلا دوڑا جاتا تھا۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ گھاٹے میں کون ہے۔ وہ جو خدا کے ماموروں کے مقابلہ کے لئے اٹھا۔ خدا نے تمہارے لئے یہ فرقان چھوڑ دیا ہے۔ اب بھی اگر تم اپنے ایمانوں کو چھپاؤ یا غفلت سے اپنی اولاد کو پھر غیر احمدیوں میں شامل ہونے دو تو تم گو یا قتل اولاد کے مرتکب ہوتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں جن کے باپوں کو حضرت اقدس سے بڑا اخلاص تھا اور بڑا تعلق تھا۔ اب ان کے بعض بیٹوں میں وہ شوق نہیں۔ اپنی اولاد کا فکر کردا نہیں دین کی طرف لگاؤ ۔ کیا تمہارا بیٹا تمہارے سامنے زہر کھانے لگے یا کنویں میں چھلانگ مارنے لگے تو تم اسے اجازت دے دو گے؟ ہرگز نہیں۔ پس خدا کی نافرمانی چھوٹی سی بات ہے جس سے تم منع نہیں کرتے اور کیا جب تمہارا کوئی بچہ کنویں میں گرنے لگے تو ایک بار منع کر کے چپ ہو جاؤ گے؟ ہر گز نہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ گناہ سے جو زہر سے بڑھ کر ہلاک کرنے والی چیز ہے صرف ایک دو بار کہہ کر چپ ہو جاؤ۔ چاہئے