انوارالعلوم (جلد 1) — Page 383
انوار العلوم جلدا ۳۸۳ مدارج تقوی کے زمانے میں اگر کوئی رسہ دیتا تھا اور اب نہیں دیتا تو میں تلوار کے زور سے لوں گا۔ حضرت عمرؓ ایسے جری و بہادر نے بھی رائے دی کہ اس وقت مصلحت وقت نہیں کہ زکوۃ پر زور دیا جائے ۔ مگر آپ نے ان کی ایک نہ مانی۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ زکوۃ کس قدر ضروری ہے۔ اگر احمدی اپنی زکوٰۃ کا با قاعدہ انتظام کریں اور اسے امام کے حضور بھیج دیا کریں تو بہت سے قومی کام پورے ہو سکتے ہیں۔ تیرار کن روزے ہیں۔ یہ ایسی پاک عبادت ہے کہ حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا روزے ہے ہر نیکی کا ایک اجر ہے مگر روزوں کا ام اجر ہے مگر روزوں کا اجر میں ہوں۔ روزہ داروں کے لئے بہشت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو۔ بلکہ ایک دروازہ اور ہو گا جس کا نام ریان ہو گا۔ پھر حج ہے۔ غیر احمدی کہتے ہیں ۔ احمدی حج نہیں کرتے۔ تم میں سے جو زی استطاعت ہیں وہ حج کر حج کے دکھا دیں کہ ہم لوگ مکہ معظمہ کی کس قدر تعظیم کرتے ہیں۔ امر بالمعروف نہی عن المنكر پھر وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِي عمل کرو ۔ دنیا میں نیک باتیں پھیلانے والے بنو۔ اور بری باتوں سے روکو۔ اصلاح اپنے گھروں سے شروع کرو۔ آپس میں محبت رکھو ۔ الفت بڑھاؤ ۔ میل جول کو ترقی دو تعلقات کو مستحکم کرو ۔ یہ سب باتیں تقوی کے لئے ضروری ہیں اس لئے ان کا بیان کیا۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هُذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً ایسے محسنوں کی نسبت فرماتا ہے۔ کہ جو لوگ دنیا میں نیکی کرتے ہیں اسی دنیا میں ان کو نیکی ملے گی۔ کیا پاک معیار ہے۔ جو لوگ خدا کے پیارے ہیں وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتے ۔ کوئی ہے جو کھڑا ہو کر کہہ سکے کہ فلاں متقی ذلیل ہو کر مرا، مجنوں ہو کر مرا یا کوئی خدا کا صدیق خدا کا متقی خدا کا پر ہیز گار مرگی زدہ ہو کر مرا۔ کوئی ہے جو یہ گواہی دے سکے کہ متقی ایسا بوڑھا ہو گیا کہ وہ ازل ان عمر کو پہنچ گیا ہو ۔ ہاں اس کے خلاف میں شہادت دے سکتا ہوں۔ کہ بڑے بڑے ذی سطوت کو صاحب حکومت بادشاہ باوجود اتنے اقتدار دو قار کے مجذوم ہو گئے۔ ان کو مرگیاں پڑیں۔ وہ دیوانے ہو گئے۔ پس دوستو تقویٰ اختیار کرو۔ کیونکہ تقوی وہ دولت لازوال ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ بڑھتی ہے۔ اور تقویٰ ہی وہ تریاق ہے جس کے سبب انسان تمام قسم کے زہروں سے محفوظ رہتا