انوارالعلوم (جلد 1) — Page 369
انوار العلوم جلدا ۳۶۹ مدارج تقوی لو ۔ جب کھانا کھا چکتے ہیں تو حکم ہوتا ہے الحمد للہ کہہ لو ورنہ ناشکری ہوگی ۔ اس ذات کا شکر ضروری ہے جس نے رزق بخشا، صحت بخشی ، معدہ دیا ، دانت دیئے ۔ اسی طرح جب ہم کوئی کام شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ خیر خواہ ؟ اخیر خواہ ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ تمہارا علم نا اعلم ناقص ہے تمہاری قوت میں کمزوری ہے پس اس پاک و قدوس قادر و مقتدر سے مدد مانگ کر شروع کرو استخارہ کر لو ۔ نکاح کے لئے بَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ (النساء : ۲) شاکر خدا کا ڈر یاد دلا دیا۔ اسی طرح جب ہم صبح کے وقت نیند سے اٹھتے ہیں تو ہم کو حکم ہوتا ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خدا کی تسبیح و تحمید و تقدیس کرلو ۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو یاد خدا کا حکم ہوتا ہے تاکہ تمہاری روحانیت کا آفتاب اسی طرح زائل نہ ہو جائے۔ پھر عصر کے وقت جب آفتاب کی حدت بہت کچھ کم ہو جاتی ہے تو پھر خدا کے حضور گڑ گڑانے کا حکم دیا۔ پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو اس وقت بھی دعا کا حکم ہے کہ الہی جس طرح یہ جسمانی سورج ڈوب گیا ہے روحانی سورج نہ ڈوب جائے اور ہم انوار خداوندی سے محروم نہ رہ جائیں۔ پھر جب بالکل اندھیرا پڑ جاتا ہے تو پھر اس نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : کے ۳۶) حضور کھڑا ہونے کا حکم م دیتا دیتا ہے ہے ایسا نہ ہو کہ ہم طرح طرح کی ظلمات ات میں میں ر رہ کر تباہ ہو جائیں۔ یہ تعلیم یہ پاک تعلیم کیا کسی گندے انسان کے دل سے نکل سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اسی شخص کے پاک قلب سے نکل سکتی ہے جس کی زندگی نہایت مطہر اور سارے جہان کے لئے نمونہ ہو ۔ یا د رکھو جو شخص دنیا کو جس قدر دین کی طرف متوجہ کرتا ہے یقینا وہ اس قدر خدا کا والہ و شیدا ہے۔ پس یہ تعلیم کہ اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے ہر وقت خدا کو یاد رکھو ۔ اس اخلاص اس محبت اس عشق اس پیار اس شیفتگی کا پتہ دیتی ہے جو نبی کریم اللہ کو خدا سے تھی۔ پھر اسی تعلیم کا اثر دیکھ کر مسلمانوں کے بچے، بوڑھے، جوان ، عورتیں سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔ کوئی بچہ گرتا ہے تو فورا منہ سے حسبک اللہ جب کوئی خوشی ہوتی ہے تو زبانیں پکار اٹھتی ہیں الحمد للہ ۔ آخر یہ بات کس نے ان کے دل میں ڈالی ؟ رسول کریم ال نے انسان اپنے پیارے کا نام کسی نہ کسی بہانے سے ضرور سننا چاہتا ہے۔ پس نبی کریم اللی کا پیارا تو خدا تھا۔ آپ نے ہر حرکت و سکون ہر قول و فعل سے پہلے پیارے کا نام بتا دیا ۔ سب سے نازک خطرناک موقعہ تو انسان کے لئے وہ ہوتا ہے جب شہوت کا بھوت اس کے سر پر سوار ہو ۔ جس وقت انسان سب کچھ بھول کر صرف اسی خیال میں محو ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ دنیا اور دنیا کے پیاروں سے الگ ہو کر ایک پیارے میں