انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 367

انوار العلوم جلدا بسم الله الرحمن الرحیم ۳۶۷ مدارج تقوی محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مدارج تقوی ( تقریر جلسه سالانه ۱۹۱۱ء) قُلْ يُعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هُذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً إِنَّمَا يُوَفَّى الصُّبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (اثر م :) حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں۔ درخت اپنے درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا پکا کا اور ایسا پاک کلمہ ہے۔ کہا ہے۔ کہ اس میں زمانے کے تغیرات ، ملکوں ، حکومتوں ، علموں اور سائنسوں کے تغیرات نے ذرا بھی تبدیلی نہیں پیدا کی۔ ۱۹۰۰ ء برس گزر گئے۔ لیکن اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فقرہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ بالکل صحیح ہے۔ جب میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کو اسی جملہ میں مرکوز دیکھتا ہوں تو یہ فقرہ مجھے بڑا مزا دیتا ہے۔ واقعی درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ دیکھو آم کا درخت ہے۔ اس میں اگر ایسے پھل نہیں لگتے جس سے لوگ نفع اٹھا ئیں تو وہ آم کس کام کا۔ اگر وہ شیریں پھل دیتا ہے تو آم ہے ورنہ ایک لکڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح اگر انگور کی بیل میں انگور عمدہ لگتے ہیں تو وہ انگور ہے ورنہ محض ایک گھاس ہے۔ ہمارے رسول اللہ اللہ کی ذات پر رسول کریم ا کی پاک زندگی کا معیار بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں اور بعض بے باک شریر آپ کو بدیوں میں ملوث بتا کر اس سورج کو چھپانا چاہتے ہیں جس سے تمام جہان روشن ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہی فقرہ آپ کے چال چلن کی بریت کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ