انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 333

انوار العلوم جلد 1 بسم الله الرحمن الرحیم ۳۳۳ من انصاری الی الله محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم مَنْ أَنْصَارِي إِلى الله ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ صبح کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی پتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں ؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمد یہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جاوے اور وسیع کیا جائے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب پتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ پتھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر کام کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ جو کوئی کسی کے کام میں اسے مدد دیتا ہے وہ اس کا دوست اور پیار ا بن جاتا ہے تو اگر ہم اس وقت ملائکہ کے کاموں میں مدد کریں گے جو خود اپنی ہی مدد ہے تو ضرور ہے کہ ملائکہ کا ہم سے خالص تعلق ہو جائے اور اس تعلق کی وجہ سے خود ہمارے نفوس کی بھی اصلاح ہو اور ملائکہ ہمارے دلوں میں کثرت سے نیک تحریکیں شروع کر دیں۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالی نے میرے دل میں دو تحریکیں پیدا کیں کہ جن سے سلسلہ کی خدمت مد نظر ہے ایک تو یہ کہ طاعون شروع ہے اور اب کے سال بہت بڑھے گی۔ اس لئے ایک اشتہار دیا جائے جس میں لوگوں کو اس سلسلہ کی دعوت دی جائے ۔ اور اس موقعہ پر لوگوں کے دل نسبتا زیادہ سخت نہیں ہوتے اس لئے اللہ تعالیٰ چاہے تو بہت فائدہ ہوگا اور یہ اشتہار ہزاروں کی تعداد میں کثرت سے بلا د ہند میں شائع کیا جائے۔ چنانچہ یہ اشتہار میں نے لکھ کر چھپنے کے لئے دے دیا