انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 317

ار العلوم جلد 1 ۳۱۷ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے پس جبکہ ہم کو سچائی کے ماننے کا دعوی ہے تو کیا ہمارا اهمار اتفاق نه حق کو چھپانے والا منافق ہے ہو گا اگر ہم ان باتوں کو چھپا دیں۔ کیا کوئی مسلمان برداشت کرتا ہے کہ اس کا کوئی دوسر دوست ہندوؤں سے بھی کچھ کچھ تعلق رکھے اور کبھی کبھی ان کو یہ سنادے کہ ہم آپ کو بھی ناجی اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ سمجھتے ہیں۔ وہاں کیوں اس اء اعتقاد کو برا برا کہا کہا جاتا ہے اس لئے کہ نفاق ہے ۔ پس اس جگہ بھی وہی نفاق ہو گا بلکہ اگر ہم مخالف کے سامنے دبی زبان سے اس کے حق پر ہونے کا بھی کچھ اقرار کریں گے تو اس کے دو برے نتیجے ہوں گے ایک تو یہ کہ تھوڑے دنوں بعد جب ہمارا اصلی عقیدہ دشمن کو معلوم ہو گا تو اس کے دل میں ہماری طرف سے سخت نفرت 1 بیٹھ جائے گی اور وہ سمجھے گا کہ یہ اول درجہ کے جھوٹے ہیں اور دوسرے یہ کہ جب حضرت صاحب نے ایسا صاف فتوی دیا ہے تو لوگ مروڑ مروڑ کر کچھ کے کچھ معنی کرتے ہیں تو اگر اس موقعہ پر ذرا بھی غفلت سے کام لیا گیا۔ تو اس سے آئندہ کے لئے سخت برے نتائج پیدا ہوں گے اور آئندہ اس خاموشی کو اجماع قرار دیا جا کر اس سے نہ معلوم کیا کیا نتائج نکالے جائیں گے اور آئندہ زمانہ میں نیک لوگ ہماری نسبت وہی الفاظ استعمال کریں گے جو اب ہم پولوس وغیرہ کی نسبت استعمال کرتے 1 ہیں اور بجائے نیک دعا دینے کے بد دعاؤں کے نشانہ ہوں گے اور اس وقت کی ہماری کوتاہی آئندہ زمانہ کے لئے نمونہ بد ہوگی۔ کیونکہ کسی مامور کے قرب کے زمانہ کے لوگوں کے افعال بھی بطور سند کے پکڑے جاتے ہیں۔ اور یہ خیال کرنا کہ مخالف زیادہ ہیں اس لئے ہم کو ڈر کر قدم رکھنا چاہئے ایک خیال باطل ہے کیونکہ حضرت صاحب کے زمانہ کی نسبت ہم اس وقت زیادہ ہیں اور حضرت صاحب نے کبھی ڈرنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ صاف مقابلہ کیا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی کے فضل سے ہم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا ہماری جماعت آگے سے بہت زیادہ ہے اور بڑھ رہی ہے۔ مذکورہ بالا عبارت میں ایک لفظ قابل تشریح ہے اور وہ یہ کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس کو میری دعوت پہنچ گئی اور اس نے نہ مانا تو وہ مسلمان نہیں اور دعوت پہنچنے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ایسے رنگ میں پہنچے کہ جس کو وہ قبول کرے لیکن مخالفین کو ابھی ایسے رنگ میں دعوت نہیں پہنچی۔ اور یہ اعتراض عبدالحکیم نے بھی کیا ہے جس کا جواب میں حضرت صاحب کی اپنی کتاب سے دیتا ہوں آپ حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں۔