انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 313

انوار العلوم جلدا ۳۱۳ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے گے اور آپ کی محبت اور فرمانبرداری کو ذریعہ نجات یقین کریں گے ۔ کیا یہ زیادہ معزز درجہ ہے یا وہ جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔ پس ہم اسی اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعود کو بموجب احادیث صحیح نبی اور مامور مانتے ہیں اور اس اعتقاد سے رسول اللہ ﷺ کی شان میں فرق نہیں آتا بلکہ اور بھی اعلیٰ ثابت ہوتی ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ جیسے اور انبیاء کے منکرین اللہ تعالی کی درگاہ سے بعید سکرین کی ذلت کئے جاتے تھے آپ کے منکرین کا بھی یہی حال ہے اور اس کا نمونہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے پس کیسے تعجب کی بات ہوگی اگر ہم باوجود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے پھر اس بات سے انکار کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخالفین کو سخت ذلت دی ہے اور دنیاوی عزت کو دیکھ کر ہماری آنکھیں چندھیا جائیں۔ ہمیں وہ دقتیں اور مشکلات پیش نہیں آئیں جو صحابہ کو پیش آئیں تھیں۔ پھر ہماری بزدلی کیا ایمان کی کمزوری پر دال نہ ہو گی ؟ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہمارے مخالف کا فر باللہ ہیں۔ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ وہ کافر بالمأمور ہیں کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ پس یہ کیسا جھوٹ ہے کہ اگر ہم باوجود ان کے انکار کے پھر ان کو مؤمن کا مومن ہی سمجھیں مؤمن تو وہ تب ہو سکتے ہیں کہ جب اپنے عقائد باطلہ سے رجوع کریں اور حضرت مسیح کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کریں جو حقیقت میں منکر ہے اسے ہم مؤمن کیونکر کہہ سکتے ہیں۔ پس جو لوگ کہ باوجود ہزاروں نشانوں کے دیکھنے کے انکار کرتے ہیں ان کے کافر بالمأمور ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی ایک ذرہ بھر بھی عزت نہیں کرتے؟ کیونکہ اگر وہ خوف خدا رکھتے اور ان کے دل میں نور ایمان ہوتا تو وہ ایک مأمور کی بے قدری اس قدر کیوں کرتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ اس موعود ذہنی کو تو اس قدر درجہ دیتے ہیں کہ اس کے منکر موعود ذہنی کافر ہوں گے اور جو اس کی مخالفت کرے گا۔ ے گا۔ وہ دجال ہو گا اور ہلاک کیا جائے گا پھر جب حضرت مسیح موعود اس بات کے مدعی ہیں کہ میں وہی ہوں۔ تو پھر آپ کی مخالفت کے باوجود ہم سے کسی اور فتوے کے کیوں امیدوار ہیں جو کچھ اس آنے والے موعود کے مخالفین کی نسبت ان کا خیال ہے ہم تو اس سے ان لوگوں کو کم ہی جانتے ہیں ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں بھی بار بار اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اور صلح کا ہونا ممکن نہیں ہمیشہ آپ نے اس کو خوب واضح کر کے بیان کیاہے اور ایسا کھول دیا ہے کہ اس کا انکار سوائے اس کے کہ کوئی ان فتووں کو نظر انداز کر دے اور کسی طرح سے نہیں ہو