انوارالعلوم (جلد 1) — Page 5
انوار العلوم جلد 1 چشمه توحید اس کی رحمانیت ہے جو انسان کو اب تک بچائے جاتی ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں یہ شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ شیطان جس نے یہ کہا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ لوں گا یعنی اپنے لئے مخصوص کرلوں گا جو کہ تجھ سے غافل ہوں گے میں تیرے بندوں پر شرک کا حربہ چلاؤں گا ان کے آگے سے حملہ کروں گا اور پیچھے سے حملہ کروں گا غرض کہ دائیں طرف سے بائیں طرف سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے میں ان پر یہ حربہ چلاؤں گا۔ میں ان کو گمراہ کروں گا ان کو لالچ دوں گا اور ان کو حکم کروں گا پس وہ جانوروں کے کان کاٹ کر خدا کی مخلوق کو دوسروں کے لئے مخصوص کریں گے ۔ پس جس نے کہ شیطان کو دوست قرار دیا ہے یعنی شرک کیا کیونکہ اس کا یہی حملہ ہے پس وہ بڑے ہی ٹوٹے اور خسارہ میں ہے۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کا وعدہ جو ہے یہ صرف ایک دھوکے کی مٹی ہے۔ اس مقام پر خدا تعالیٰ نے مشرک کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ بخشا نہیں جاوے گا۔ وہ شیطان کا تابعدار ہے اور یہ کہ وہ کبھی کامیاب نہ ہو گا۔ پہلی دو باتیں تو ایسی ہیں کہ ان میں مشرک ہمارا مقابلہ کر سکتے ہیں مشرک کامیاب نہیں ہوتا اور کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی بخشے جاویں گے اور ہم شیطان کے تابعدار نہیں ۔ مگر تیسری بات خدا نے ایسی فرمادی ہے کہ جس سے پہلی دو باتیں بھی تصدیق ہو جاتی ہیں۔ یعنی مشرک کامیاب نہیں ہوں گے ۔ سو حضرت آدم سے لے کر آج تک دیکھ لو کہ کیا مشرک موسی کبھی بھی کسی نبی کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے ؟ حضرت ) حضرت نوح، ہود صالح ، شعیب ابراہیم ؟ من عیسی اور سب سے آخر میں اور سب سے بڑھ کر حضرت نبی کریم ا تھے کہ جن کو شرک سے مقابلہ کرنا پڑا۔ مگر نتیجہ کیا ہوا کیا ان مشرکوں کا کوئی نام لیوا ہے ؟ کوئی نہیں جو کہے کہ میں فرعون یا کے ابو جہل کی اولاد میں۔ اولاد میں سے ہوں۔ ان لوگوں کی اولاد اپنے آپ کو آپ کو چھپاتی ہے اور اپنے آباء و اجداد اور نام بتلاتی ہے ۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ شرک کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اور چونکہ ان لوگوں پر خدا کے عذاب نازل ہوئے اور وہ ناکام ہوئے اس لئے ان کی اولاد بھی ان کو برابھلا کہتی ہے اور اس کو پسند نہیں کرتی کہ ان کو ان مشرکوں کے ساتھ منسوب کیا جارے پس یہ ایک بدیہی ثبوت ہے جو خدا تعالی اس بات کے ثبوت کے لئے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ شیطان کے مرید اور نہ بخشے جانے والے ہیں۔ غرض یہ شرک ایک ایسا پوشیدہ مرض ہے جیسا کہ مریض کو تپ دق جو رفتہ رفتہ انسان کو ہلاک کرکے ہی چھوڑتا ہے یا ایک درخت کو کیڑا کہ ایک مدت کے بعد ایک بڑے عالی شان درخت کو گرا