انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 308

انوار العلوم جلد 1 ۳۰۸ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے طرح اب بھی پھرتے رہے۔ پس ضرور تھا کہ جس طرح آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت پر ابتلاء آئے۔ اسی طرح حضرت صاحب کی وفات کے بعد بھی جماعت پر اسی طرح ابتلاء آتے ۔ چنانچہ ایک مدت سے بلکہ شاید میں غلطی پر نہ ہوں گا اگر کہوں کہ حضرت صاحب کی زندگی کے زمانہ سے مجھے اس بات کا خیال تھا اور خوف تھا اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک مدت سے آثار ظاہر ہو رہے ہیں لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود صرف مثیل مسیح ہی نہ تھے بلکہ مہدی مسعود بھی تھے اس لئے امید بلکہ یقین ہے کہ انشاء اللہ اللہ تعالی کے فضل سے ہماری جماعت ان ابتلاؤں کے زمانہ سے صاف اور بے عیب نکل جائے گی۔ چنانچہ اگر میں بھولتا نہیں تو میں نے خود حضرت خلیفۃ المسیح کے منہ سے یہ سنا ہے کہ یہ سنا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ مثیل مسیح ہیں۔ اس لئے ان واقعات سے خوف آتا ہے۔ جو مسیح کی جماعت سے پیش آئے فرمایا کہ ہاں خوف تو ہے لیکن چونکہ میں مہدی بھی ہوں اس لئے اللہ تعالی انجام نیک کرے گا۔ پس گو خوف ہے لیکن نیک انجام کی بڑی امیدیں لگی ہوئی ہیں۔ اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور بیان سیخ ناصری کے بعد غیر قوموں کا حملہ کرتا ہوں کہ وہ تباہ کیاتھا جوحضرت میخ کے بعد ں وہ ابتلاء آپ کی جماعت کو آیا ۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد آپ کی جماعت کو غیر قوموں نے اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہوتے گئے کہ جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیحی لوگ ان میں مل گئے ۔ ان مٹھی بھر آدمیوں پر وہ کثرت غالب آئی اور یونانی اور پرومی مشرکانہ خیالات اور مداہنت ان میں پیدا ہو گئی۔ بعض حواری جو الگ رہے ان کا بقیہ خاتم انبین رسول رب العلمين الال إلى يَوْمِ الدِّینِ کے وقت تک چلا۔ لیکن چونکہ اصل توحید آگئی۔ اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا سے اٹھا لیا اور وہ اپنا کام کر کے خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے گزر گئے۔ چنانچہ سلمان فارسی بھی انہیں لوگوں کے بتائے ہوئے رسول اللہ ا کے پاس آئے تھے۔ ہمارے حضرت کی زندگی کے آخری ایام میں اور بعد مسیح ثانی کی وفات پر ثابت قدمی وفات کے بھی اس قسم کی تحریکات مخالفین سلسلہ کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اور ہو رہی ہیں۔ ایک وہ وقت تھا کہ ہمارے بر خلاف چاروں طرف سے کفر کے فتوے شائع ہوتے تھے ۔ ہمارے سلسلہ کے کمزور اور ضعیف انسانوں کو بے طرح کچلا جاتا تھا۔ وہ