انوارالعلوم (جلد 1) — Page 297
انوار العلوم جلد 1 ۲۹۷ فرعون موسیٰ رہتے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کی طرح پرورش پاتے رہے تھے اس لئے ان کو مخاطب کیا) آپ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر اسے راہ دکھائی۔ اس مباحثہ کے بعد آپس میں اور جھگڑے ہوتے رہے لیکن فرعون نے قطعاً اس کی پروا رواه نه نہ کی اور بنی اسرائیل کو دکھ دہی اور ایذاء رسانی میں بڑھتا گیا اور یہاں تک بڑھا کہ بنی اسرائیل چلا اٹھے کہ اے موسیٰ تیرے آنے سے تو ہمارے دکھ اور بھی بڑھ گئے ہیں آخر معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کو حکم دیا کہ اب ملک مصر سے راتوں رات نکل بھاگو ۔ چنانچہ وہ ایک رات مصر سے چلے اور شام کا رستہ لیا۔ خشکی کا راستہ جس میں آجکل نہر سویز نکالی گئی ہے دور تھا۔ جلدی میں سمندر کے ساحل کی راہ لی اتنے میں فرعون منفتاح کو خبر ہو گئی وہ پیچھے بھاگا اور کنارہ سمندر پر ان کو جالیا۔ بنی اسرائیل تو گھبرا گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسی نے ان کو سمندر میں گھس جانے کا حکم دیا۔ پانی پھٹ گیا۔ اور وہ بیچ میں سے صاف نکل گئے ۔ فرعون کو بھی یہ نظارہ دیکھ کر دلیری پیدا ہوئی۔ اور وہ بھی مع لشکر اندر گھس گیا۔ لیکن ایک دفعہ گھنے کے بعد پھر باہر نکلنا نصیب نہ ہوا۔ ایک ہی لری آئی کہ اسے مع لشکر کے بہا کر لے گئی۔ قرآن شریف میں آتا ہے کہ اس موقعہ پر اس نے کہا کہ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنَوْا إِسْرَاعِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: (91) یعنی میں ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں لیکن یہ وقت تو بہ کا نہ تھا۔ بہت سے ایسے مواقع تو بہ کے ملے پر اس نے قدر نہ کی ہر دفعہ شرارت میں ترقی ہی کی۔ پس جب عذاب آہی گیا۔ اور پانی نتھنوں سے نیچے اتر گیا تو اب تو به کاکون سا موقعہ تھا۔ اس لئے فرماتا ہے۔ کہ الْتَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ أَيْتِنَا لَغَافِلُونَ (يونس : ۹۲-۹۳) یعنی اب تو تو بہ کرتا ہے اور پہلے نافرمانیاں کر چکا ہے۔ اور فسادیوں کے گروہ میں شامل رہا ہے ۔ پس آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے ۔ تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لئے نشان ہو اور لوگوں میں سے اکثر ہماری نشانیوں سے غافل ہیں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش غرق ہونے سے بچ گئی بلکہ سمندر کے باہر جاپڑی اور اس کے لشکریوں نے اسے اٹھا کر دفن کیا۔ یہ ایک ایساد عوٹی ہے کہ جس کا وجود قرآن شریف کے سوا اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ نہ توریت میں کہیں اس کا ذکر ہے نہ انجیل میں اور نہ انبیاء کی کتب میں۔ لیکن یہ ثابت کرنا کہ آج سے تین ہزار سال پہلے ایک شخص کی لاش دریا سے نکلی تھی یا نہیں ؟ بہت مشکل تھا۔ مگر جو