انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 295

انوار العلوم جلد 1 ۲۹۵ فرعون موسی أَصْحُبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ (الشعراء: ۷۲) حالانکہ ناامیدی اور مجبوری کمزور سے کمزور انسان کو مقابلہ پر ابھار دیتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس وقت ایسے پست ہمت ہو گئے تھے کہ ان میں ایسے موقعہ پر بھی جرات دکھانے کی جرأت باقی نہ تھی۔ جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالی نے ان وعدوں کے مطابق جو حضرت ابراہیم سے ان کی اولاد کے متعلق کئے تھے ایک شخص کو پیدا کیا۔ جس کا نام اس کے والدین نے موسیٰ رکھا۔ موسی کی پیدائش کے وقت بچوں کے قتل کا حکم ظالم بادشاہ کی طرف سے عام ہو رہا تھا۔ ان کی والدہ بھی خائف تھیں کہ کوئی گھڑی میں یہ بچہ بھی ظالموں کے ہاتھ سے قتل کیا جائے گا۔ کہ اللہ تعالے نے بموجب آیت شریفہ وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَالْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ (القصص : ۸) (اور ہم نے وحی کی والدہ موئی کی طرف کہ اس کو دودھ پلا اور جب تو ڈرے اس کی جان کے متعلق تو اسے دریا میں ڈال دے اور ڈر نہیں اور نہ غم کھا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ اور رسولوں کی جماعت میں داخل کروں گا) انہیں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے ہاتھوں سے بچالیا۔ پھر یہ ہوا کہ دریا کے کنارے پر ان کو فرعون کی لڑکی نے دیکھا اور اس کو ان پر رحم آیا ۔ ان کو نکال کر پالنے کا ارادہ کیا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے ۔ فَالْتَقَطَّةَ آل فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنَا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَا مَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خُطِئِينَ (القصص :(٩) یعنی اسے اٹھا لیا فراعنہ کی اولاد میں سے کسی نے تاکہ ہو ان کے لئے دشمن اور غم کا باعث - تحقیق فرعون اور ہامان اور ان کالا لشکر خطا کار تھے ۔ فرعون نے مارنا چاہا لیکن بیٹی کی دلجوئی یا کسی اور غرض کے لئے اس کی بیوی شفیع ہوئی اور ان کو بیٹا بنا لینے کا ارادہ ظاہر کیا اور قتل سے روکا۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے وَقَالَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لَّن وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (القصص : ١٠) دودھ پلانے کے لئے آپ کی والدہ ہی مقرر ہوئیں۔ اس لئے بچپن ہی سے آپ کو فراعنہ اور بنی اسرائیل کے تعلقات کا حال معلوم ہو تا رہا۔ اور خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو گیا کہ اس وقت ان کی حالت جانوروں سے بدتر ہے ۔ بڑے ہوئے تو شہزادگی کی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے قومی خوب مضبوط اور خیالات عالی تھے ۔ مظلوموں کی مدد پر ہر وقت تیار رہتے۔ ایک دفعہ دیکھا کہ ایک عبری سے ایک فرعونی لڑرہا ہے ۔ آپ سے اس کا ظلم نہ دیکھا گیا۔ بڑھ کر اس فرعونی کو مکامارا اور اتفا ر اتفا قاده