انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 285

انوار العلوم جلدا ۲۸۵ ذریعہ قرار دیتے ہیں خود یسوع بھی اس سے ناواقف تھا۔ ان سب باتوں کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا یسوع صلیب پر فوت بھی يسوع صلیب پر نہیں مرا ہوا تھا کہ نہیں اور چونکہ اور چونکہ مسیحیوں کو قائل کرنے کے لئے سب ت بہتر ذریعہ اناجیل ہی ہیں اس لیئے میں انہیں سے ہی روشنی ڈالتا ہوں۔ یسور ڈالتا ہوں۔ یسوع کی صلیبی موت قطعاً ثابت نہیں بلکہ صلیب پر سے بچ جانا ثابت ہے ۔ متی باب ۲۷ میں ہے کہ جب یسوع حاکم کے سامنے لے جایا گیا تو اس نے اس سے بہت سے سوال کئے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور اس پر حاکم بہت متعجب ہوا۔ مگر اس کا دستور تھا کہ ہر عید پر ایک قیدی کو یہودیوں کی خاطر چھوڑ دیتا تھا۔ سو اس نے یہودیوں سے پوچھا۔ میں کسن کو چھوڑوں۔ برناباس کو جو ایک مشہور چور تھا یا یسوع کو۔ کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ یسوع حسد کی وجہ سے پکڑایا گیا تھا۔ یہودیوں نے برابا کو چھوڑنے کی درخواست کی۔ اتنے میں حاکم کی بیوی نے آدمی بھیجا۔ کہ خبردار اس نیک آدمی کو کچھ نہ کہنا کیونکہ میں نے آج رات کو اس کی وجہ سے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں۔ اس لئے پیلاطوس نے پھر یسوع کو بچانے کے لئے کوشش کی ۔ مگر یہودیوں نے نہ مانا تو اس نے ان سے پوچھا۔ کہ کیوں اس نے کیا بدی کی کہ میں اسے صلیب پر لٹکاؤں انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور یہی شور مچایا کہ نہیں اسے صلیب دو۔ تب اس نے سب یہودیوں کے سامنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ تم جو چاہو کرو۔ میں اس راستباز کے خون سے بری ہوں اور اسے یہودیوں کے سپرد کر دیا ۔ جنہوں نے اسے جمعہ کے دن شام کے وقت صلیب پر لٹکا دیا اور ابھی تین گھنٹہ نہ گزرنے پائے تھے کہ ایک بڑا زلزلہ آیا اور اندھیرا چھا گیا اور چونکہ یہودی سبت کے دن کسی کو صلیب پر نہ رکھ سکتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے سب کو اتار لیا اور یوحنا کے بیان کے مطابق اس کے ساتھ جو دو چور صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔ مگر یسوع کی کوئی ہڈی نہ توڑی۔ اور ایک شخص نے جب ان کے پہلو کو چھید اتو اس میں سے خون نکلا پھر جیسا کہ متی لکھتا ہے۔ یوسف آرمیتیا یسوع کا ایک شاگر د پیلاطوس کے پاس گیا۔ اور اس سے اس کی لاش مانگی۔ مگر پالا طوس نے بموجب بیان مرقس کے متعجب ہو کر شبہ کیا۔ کہ کیا وہ ایسی جلدی مر گیا۔ اور اسے اس کے سپرد کر دیا اس نے اسے ایک مکان میں جا کر ڈال دیا۔ اور مریم مگر لینی وغیرہ دروازہ پر بیٹھی رہیں پھر یہودیوں کو شبہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ یسوع کے شاگرد اسے چرا کر لے جائیں۔ اور کہہ دیں کہ وہ زندہ ہو گیا اس لئے اپنے پہرہ دار مقرر کئے ۔ مگر جب وہ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پتھر قبر پر سے ڈھلکا ہوا ہے۔ اور ایک آدمی نے مریم مگر لینی وغیرہ سے جو وہاں یسوع کے دیکھنے نجات