انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxix of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxix

انوار العلوم جلدا اپنے نفس کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے۔ 19 تعارف کتب ان اغراض کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ کیا کہ اوّل عبادت کیلئے ضروری ہے کہ خدا کے حضور جسم بھی ایک تذلل کی حالت میں رہے تا کہ اس کا روح پر اثر کا روح پر اثر پڑے اور اسلامی نماز میں مختلف قوموں کے اظہار تذلل کے تقریباً تمام طریق آگئے ہیں۔ جن کی ادائیگی سے دل خدا کے حضور جھک جاتے ہیں ۔ دوسرا طریق اسلام نے عبادت یا نماز کی غایت کو حاصل کرنے کا دعا بیان کیا ہے ۔ الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ تیسرا طریق اسلام نے یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا مشاہدہ کیا جائے اور اس غرض سے اسلامی نماز میں ایسی عبارتوں کو پڑھنا مقرر کر دیا کہ جن سے انسان پر اللہ تعالیٰ کا پُر جلال اور قابل محبت ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اس ہے۔ اس کے بعد آپ نے نماز کا طریق اور نماز کا ترجمہ بیان کیا اور ا حاشیہ میں بعض ضروری امور کی تشریح بھی فرمائی ہے۔ (۲۰) حضرت خلیفة المسیح الاوّل کی وفات کے بعد آپ کی تقریر ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت خلیفہ اصبح الاول کی وفات کے بعد آپ نے بعد نماز عصر مسجد نور خلیفۃ المسیح ول کی ۔ قادیان میں نہایت پر درد تقریر پُر درد تقریر فرمائی ۔ جس میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی وفات کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے افراد جماعت کو آگاہ کیا اور کثرت سے استغفار اور دعا کی طرف احباب جماعت کو متوجہ کیا۔ آپ نے فرمایا دوست دعا کریں کہ اے ہمارے مولی اس امتحان کے موقعہ پر آپ ہماری راہنمائی کر ۔ ہمارے تمام کاموں میں برکت نازل کر اور اپنی خدمت کیلئے پاک وجود چن لے ۔ اس مختصر اور پر اثر خطاب کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ۔ اس دعا میں ایک خاص درد تھا۔ لوگوں کے دل سوز و گداز سے بھر گئے اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں مسجد نور آہ و بکا سے پُر ہوگئی ۔ لمبی دعا کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک غیر معمولی تجلی کے ذریعہ لوگوں کے دلوں پر سکینت نازل ہوئی ہے۔ اُن میں نظام جماعت اور اتحاد کیلئے خاص جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا۔ اس دعا کے بعد صاحبزادہ صاحب کچھ دیر کیلئے بیٹھ گئے اور احباب سے کہا کہ جو لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں وہ کل روزہ رکھیں ۔ پھر آپ مسجد سے اٹھے اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے ۔ XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXX