انوارالعلوم (جلد 1) — Page 254
انوار العلوم جلد 1 ۲۵۴ نجات مضر ہے تو ضرور نقصان کرے گی۔ لیکن اس سے اس دوائی پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا کہ یہ خراب ہے مثلا کو نین ایک بڑی مقدار میں ایک حاملہ عورت کو دے دی جائے تو وہ اسے نقصان کرتی ہے گو اس سے کونین پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو تشخیص کرنے والے کی غلطی ہے کہ اس نے مریض کی حالت کو نہ دیکھا۔ پس اگر رحم کو بے موقعہ استعمال کرنے پر اس کا کوئی برا نتیجہ نکلے تو یہ تشخیص کا نقص ہے نہ کہ رحم کا کیونکہ رحم تو بہر حال ایک عمدہ صفت ہے ہاں جب اسے غیر محل استعمال کیا جائے گا تو ضرور اس سے نقصان ہو گا۔ پس اس قسم کے نقصانوں سے خود رحم پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ اور وہ بہر حال ایک عمدہ صفت ہے۔ غرضکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رحم انسانی سرشت میں ازل سے پڑا ہوا ہے۔ اور رحم نہ کرنے والا اگر ظالم نہیں تو بخیل ضرور خیال کیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک روحانی بات کا ایک پہلو اس دنیا میں دکھایا ہے تاکہ انسان اس کو دیکھ کر سمجھ سکے کہ اسی طرح وہ معاملہ بھی ہو گا۔ اس کے مطابق اپنے کاموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ رحم کی صفت پر جب تک عمل نہ کیا جاوے تو ہمارے اخلاق اپنا کمال حاصل نہیں کرتے چنانچہ عدل خود بھی ایک عمدہ صفت رحم کے ماتحت ہے یعنی جبکہ ہم کسی کو اس کا پورا بدلہ دیں تو وہ عدل کہلاتا ہے اور جب ہم اسے زیادہ دیں تو وہ احسان یا رحم کہلاتا ہے جیسے کہ ایک مزدور جو سارا دن کام کرتا رہا اور شمام کو اسے آٹھ آنے مزدوری ملتی ہے اگر ہم اسے ایک روپیہ دیدیں تو یہ ہمار ارحم ہے اور احسان ہے اور اس فعل سے ہماری دنیا میں بدنامی نہیں ہوگی بلکہ شہرت ہوگی اور ہماری نیکی کی لوگ تعریف کریں گے یا ایک قرضدار جس نے ہمارا کچھ روپیہ دینا ہے اگر ہم اس سے پورا روپیہ وصول کریں تو یہ ہمارا عدل ہو گا اور کوئی ہم پر اعتراض نہ کرے گا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ لیکن اگر ہم اس کو روپیہ بخش دیں یا کم استطاعتی پر خیال کر کے اس کو اور ڈھیل دیدیں تو یہ ہمار ارحم ہو گا۔ اور اس پر ہم بد نام نہیں نیک نام ہوں گے اور خود اس شخص کے دل میں جو ہمارا مقروض ہے ہماری عزت اور محبت بڑھ جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف نے بھی اس مسئلہ کو خوب وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ و جزوا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ ينَةً مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهَ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ( الثوري : (۳) یعنی اس بات کی خدا تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ جس نے جس قدر بدی تم سے کی ہے اس قدر اس کو سزا دے لو ۔ لیکن اگر کوئی اصلاح سمجھ کر معاف کر دے تو وہ عنداللہ ماجور ہو گا۔ اور خدا تعالیٰ کی