انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 252

انوار العلوم جلد 1 ۲۵۲ اس کی بات کا انکار کرنا برا نہیں بلکہ دور اندیشی سمجھا جاتا ہے اور اس کی بدنامی چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح تمام نیک صفات کا نتیجہ نیک نکلتا ہے اور بد افعال کا نتیجہ بد اور یہ ایک ایسا آلہ اور ایسی کسوٹی ہے کہ جس پر انسان اپنی صفات کو پر کچھ سکتا ہے اور اس طرح اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ واقعی وہ صفات جو فطرتا نیک معلوم ہوتی ہیں وہ ہیں بھی نیک اور یہ کہ جو صفات فطر تابد معلوم ہوتی ہیں اس کے نتائج بھی بد نکلتے ہیں۔ پس فطرت کے پرکھنے کے لئے ایک تجربہ بھی انسان کو دیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی فطرت کو پرکھتا رہتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ضمیر ہے کہ جو اس کی مددگار بنی ہوئی ہے اور اس کو آگاہ کرتی رہتی ہے کہ اس کا کونسا کام فطرت کے مطابق ہے اور کون سابر خلاف فطرت ۔ پس جب انسان فطرت سے کام لیتا ہے تو اسے کوئی ملامت نہیں ہوتی اور جب وہ فطرت کے برخلاف کام کرتا ہے تو فورا اس کو ملامت شروع ہو جاتی ہے۔ اور گو کہ ایک مدت تک فطرت کے برخلاف کام کرنے سے دل پر ایک زنگ لگ جاتا ہے اور فطرت انسانی مسخ ہو جاتی ہے اور اس آئینہ کی طرح ہو جاتی ہے کہ جو زنگ کی کثرت کی وجہ سے عکس قبول نہیں کرتا اور اپنی اصلی حالت کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر پھر بھی ایسے انسان کسی نہ کسی وقت فطرت کے مطابق بول ہی اٹھتے ہیں ایک چور اپنے گروہ میں چوری کو برا سمجھتا ہے ایک ٹھگ اپنے گروہ میں ٹھگی کو مکروہ خیال کرتا ہے۔ کنجر تک اپنی بہو سے پیشہ نہیں کرواتے۔ 0 پس معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے ۔ علاوہ ازیں اکثر بدیوں میں ایک حد تک اخفاء کا خیال رہتا ہے جس سے انسان کو اس کی فطرت پر آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ غرضیکہ فطرت انسانی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بعض صفات کو وہ نیک خیال کرتی ہے اور بعض کو مکروہ۔ پس اس فطرت سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کونسی صفت خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنی نیک ہے اور کونسی بری۔ جو صفات کہ انسان کے قدس پر دلالت کرتی ہیں۔ اور وہ اس کے نقائص کو دور کرنے کے لئے نہیں ہیں وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف انسان منسوب کرتا ہے۔ اور جو صفات کہ بری ہوں یا نقائص پر دلالت کرتی ہوں تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کی جاتیں۔ پس اب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان میں رحم کا مادہ ہے اور یہ ایک نیک صفت یقین کی گئی ہے اور اس کے بر خلاف جس انسان نے رحم کے برخلاف کام کیا ہو وہ خود لوگوں کی نظر میں گر جاتا ہے۔ فطرت انسانی کو مشاہدہ کر کے دیکھ لو کہ یہ شروع سے ہی رحم کی محتاج چلی آئی ہے۔ چنانچہ اگر والدین کی طبیعت میں رحم کا مادہ نہ ہو تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ بچہ بڑھ سکے۔ بچہ تو پیدا ہوتے ہی ہلاک ہو جائے گا اور ایک دن بھی نجات