انوارالعلوم (جلد 1) — Page 248
انوار العلوم جلد 1 ۲۴۸ کوئی تبدیلی نہیں چاہئے ۔ اس لئے ایسا نہ ہو کہ تم خلاف فطرت ایسی صفات تجویز کرو ۔ جو میری خلق کے خلاف ہیں۔ اور میں نے ان کو پیدا کیا بلکہ ہمیشہ عقل و فطرت سے کام لیا کرو اور ان دونوں کو اپنا رہنما بناؤ۔ اور جب تک تم خود ان میں تبدیلی نہ کرو گے اس وقت تک تم راہ راست پر رہو گے ۔ اس جگہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ عقل سے بالا کوئی علوم نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ فطرت و عقل کے مطابق کل علوم ہونے چاہئیں اس کے خلاف نہ ہوں مثلاً کوئی شخص ہم کو آکر بتائے کہ زید لا ہور گیا ہے تو یہ بات ہماری عقل سے بالا ہے خلاف نہیں کیونکہ ہم کو سماع سے معلوم ہوئی ہے خود عقل بغیر کسی کی اطلاع کے اس بات کو دریافت نہ کر سکتی تھی۔ مگر جب معتبر خبر ہم کو ملی تو ہماری عقل نے کوئی وجہ اس کے رد کرنے کی نہیں پائی ۔ پس جہاں جہاں میں عقل و فطرت کو انسان کا رہنما بتلاؤں گا میرا یہی مطلب ہو گا کہ جن باتوں کے وہ بر خلاف نہ ہوں ان کو قبول کرو خواہ وہ کسی ذریعہ سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہوں۔ پس خدا تعالیٰ اس آیت میں ہم کو بتاتا ہے کہ فطرت انسانی تو ہماری ہی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اس میں ہم نے اپنے صفات کا پر تو ڈالا ہے پس اس میں تبدیلی مت کرو۔ اور اس کو اپنا رہنما بناؤ۔ اور جب تک تم اس اصول پر چلتے رہو گے اور اس راہ کو نہ چھوڑو گے تو تم سیدھی راہ پر رہو گے اور ہماری صفات کے سمجھنے میں دھوکہ نہ کھاؤ گے۔ چنانچہ فرماتا ہے ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ یعنی جو دین کہ اس طرح فطرت کے مطابق ہم کو چلاتا ہے اور وہ اصول ہم کو بتاتا ہے جو فطرت کے برخلاف نہ ہوں وہی سچا ہے اور باقی سب مذاہب جھوٹے ہیں اور غ ں اور غلطی پر ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھا۔ اور وہ سیدھے راستہ سے دور جا پڑے ہیں اور کیونکہ ان کی بات بے ثبوت ہے اور ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس سے وہ اپنے دعوے کو ثابت کر سکیں اور یہ ایک ایسا اصول ہے کہ جس کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک حد تک انسان کو اپنے صفات کا مظہر بتاتا ہے اور جو طاقتیں کہ خدا تعالیٰ میں ہیں ایک حد تک انسان پر اس کا پر تو ڈالا ہے ۔ چنانچہ اس کی تائید میں رسول اللہ اللہ کی ایک حدیث بھی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ الله یعنی اے لوگو ! اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا اپنے آپ کو مظہر بناؤ۔ بناؤ۔ اور وہ صفات حسنہ جو خدا تعالیٰ نے تم میں ودیعت کی ہیں ان کو ترک مت کرو۔ اور ان سے غافل مت ہو ۔ بلکہ ان میں ترقی دو ۔ اور اپنے آپ کو کامل مظہر بناؤ۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ اللہ نے اس کی ய نجات