انوارالعلوم (جلد 1) — Page 243
انوار العلوم جلد 1 ۲۳۳ نجات سے نجات ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کس طرح؟ دوم یہ کہ کیا اسلام انسان کے گناہوں سے پاک ہونے کا قائل ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کس طرح؟ سوم یہ کہ کیا اسلام مرنے کے بعد گناہوں کی معافی کا قائل ہے یا نہیں ؟ چہارم یہ کہ کیا دوزخ کا عذاب غیر محدود ہے ؟ پنجم یہ کہ کیا جنت کا انعام منقطع ہے؟ اور ششم خاتمہ جس میں انشاء اللہ اس مضمون کے متعلق متفرق باتوں کو بیان کیا جائے گا۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ کیا اسلام میں پچھلے گناہوں سے نجات ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس طرح؟ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نجات کے مضمون کو میں نے مختلف چھ حصوں پر تقسیم کیا ہے۔ اور سب سے پہلے میں مذکورہ بالا ہیڈنگ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ جب ایک انسان خدا کی طرف جھکتا ضرور ہے کہ اسے پہلے یہی سوال پیش آئے کہ کیا میرے پہلے گناہ جو میں ار گناہ جو میں اب تک کر چکا ہوں وہ معاف ہو ۔ سکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس سوال کے حل کئے بغیر نجات پر بحث کرنا ہے بھی فضول ہے تو کیونکہ جب گناہ ہی معاف نہ ہوئے تو پھر نجات کس طرح ممکن ہے۔ یاد رہے کہ اسلام ہم کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے غفار ہونے پر ہر حالت میں ایمان لائیں اور کسی وقت بھی اس کے بے پایاں فضل و کرم سے نا امید نہ ہوں۔ بلکہ ہر دم یقین کریں کہ اگر خدا تعالیٰ کے انعامات ہمارے شامل حال نہ ہوں تو ہماری زندگیاں تلخ ہو جائیں اور جینا ہمارے لئے دو بھر ہو جائے اور یہ کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور اگر سچی توبہ کی جائے جو فضل کی جاذب ہو تو ہمارے گناہوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے وہ محبت سے پر محبت کے قابل ہستی ہے جس کے مد نظر انسان کی اصلاح ہے اس کی ہلاکت نہیں پس جس وقت انسان اصلاح کی طرف جھکتا ہے اور اپنی غلطیوں پر آگاہ ہو کر ان کے دور کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے تو آسمان کے دروازے بھی اس کے لئے کھل جاتے ہیں اور ملاء اعلیٰ کی توجہ بھی اس کی اصلاح کی طرف منصرف ہو جاتی ہے پس مبارک ہے وہ جو ان باتوں پر غور کرے اور فائدہ اٹھائے۔ بر خلاف اس کے مسیحی اور آرین یہ خیال کرتے ہیں کہ پچھلے گناہ قطعا معاف نہیں ہو سکتے جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اب واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اب اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ تو یہی طریق