انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 238

انوار العلوم جلد 1 ۲۳۸ نجات ہے۔ تو کہیں فری تھنکر پیدا ہو گئے ہیں کہ جن کا کام ہی پادری صاحبان کو گالیاں دیتا اور ان کے راز پوشیدہ کو ظاہر کرنا ہے۔ مگر یہ باتیں بھی کچھ نہ تھیں اگر یورپ مسیحیت پر قائم رہتا مگر جو لوگ یورپ سے دنیا کو نجات دینے کے لئے نکلے تھے۔ ان کے اپنے وطن میں اسی فی صد سے بھی زیادہ لوگ دہر یہ ہو گئے ہیں۔ اور اسی وجہ سے جہاں جہاں پادریوں کا کچھ اختیار تھا۔ ان کو اس سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ یہ اس آیت کے ماتحت ہے کہ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ بیشک سب کچھ خدا ہی کا ہے۔ وہ اس پاک کتاب پر ٹھٹھا کرنے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑتا مگر اس کو جو توبہ کرے۔ تیسری آیت اس بارے میں سورۃ سبا کے رکوع ۳ میں ہے کہ وَمَا أَرْ سَلْتُكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (سبا: ۲۹) یعنی ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا مگر صرف اس لئے کہ اب تمام دنیا کے لئے ایک نبی کی ضرورت تھی اور وہ اس بات کی محتاج تھی کہ بجائے الگ الگ نبی آنے کے ایک ہی نبی آئے جو کامل اور مکمل ہو جس کے وجود پر تمام دنیا کی ہدایت کا دار ومدار ہو اور جس کے توسط سے لوگ اس خالق حقیقی تک پہنچیں کہ جس تک پہنچنا تمام بزرگیوں سے بزرگ تر اور تمام انعامات سے بڑا انعام ہے۔ اس لئے ہم نے تجھ کو اس کام کے لئے چنا اور بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کیا۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں اور تیری بے کسی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو ایسا کمزور اور غیر مشہور ہے۔ اس کی تعلیم اور ہدایت تمام دنیا میں کسی طرح پہنچے گی۔ اور کس طرح تمام دنیا کے لئے بشیر و نذیر ہو جائے گا۔ ایک ہمارا مقابلہ تو یہ کر نہیں سکتا۔ پھر سب دنیا میں اس کے پیرو کس طرح پھیل جائیں گے اور یہ چند آدمی بڑھتے بڑھتے کل دنیا کا احاطہ کس طرح کر لیں گے ۔ چنانچہ خدا تعالی ان لوگوں کے خیالات و اقوال کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ جب مخالفین اسلام نے آنحضرت اللہ کا یہ قول سنا کہ میں سب دنیا کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور سب کے لئے بشیر و نذیر ہو کر آیا ہوں اور میری تعلیم ہر جگہ پھیل جائے گی تو وہ حیران ہوئے وَ يَقُولُو لون متى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ (سبا: ۳۰) یعنی اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہو گا اور کب آپ کی بشارت اور آپ کا انذار تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ اور آپ کے دشمن ذلیل اور پیرو با عزت ہوں گے ۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ قُل لَّكُم مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ (سبا: ۳۱) ان کو کہہ دو کہ دوسروں سے تم کو کیا اپنی سنو کہ تمہارے لئے ایک یوم (جو الہامی کتب میں ایک قلیل مدت سے مراد ہوتی ہے) کی مدت مقرر ہو چکی ہے۔ اب اس مدت کے