انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 233

انوار العلوم جلد 1 ۲۳۳ نجات بلکہ وصیت کو یوں خاک میں ملا دیا ۔ اور بت پرست قوموں کے سامنے مسیحیت کو پیش کیا۔ وہ لوگ جن کی گھٹی میں ہی بت پرستی پڑی ہوئی تھی وہ کب اس مذہب میں داخل ہو کر اسے ترک کر سکتے تھے۔ اگر پہلے محبت اور غضب اور وقت اور قسمت کے بت بجتے تھے ۔ تو اب انہوں نے یسوع اور مریم کے بتوں کے آگے سر جھکا دیئے ۔ اور اسی طرح وہ تعلیم جو توحید سکھاتی تھی سب سے زیادہ بت پرستی کی تلقین کرنے والی تعلیم ہو گئی اور وہ یسوع جس نے کہ قوم کی خاطر بڑے بڑے دکھ اٹھائے تھے۔ اس کو انہوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ ملعون قرار دیا (نعوذ باللہ) اور اسی طرح پہلے نوشتوں کا کلام پورا ہوا کہ اپنے موتی سٹوروں کے آگے نہ ڈالو کہ وہ انہیں پامال کریں۔ اور پھر کر تمہیں پھاڑیں " ۔ یسوع کے احسانات فراموش کر دیئے گئے۔ اس کی کل نیکیاں بھلا دی گئیں۔ اس کی کل مہربانیاں نظر انداز کر دی گئیں۔ اور وہ قوم کا مصلح بغیر کسی جرم کے ملعون قرار دیا گیا اور اس کے پیروان نے اس کی تعلیم کو غیر قوموں کے سامنے پیش کر کے اسے پھڑوایا اور گالیاں دلوائیں۔ سچ ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔ یسوع کے اپنے ہی شاگردوں نے سادگی کی وجہ سے بت پرستوں کے آگے موتی ڈال دیئے جنہوں نے ان کو روندا اور خود ان کے استاد کو پھاڑا۔ کیا اس سے زیادہ کوئی حملہ ہو سکتا ہے کہ ایک فدائے قوم اور نیک آدمی کو من مانے عیش اڑانے کے لئے ملعون قرار دیا ۔ گو پر اسسٹنٹ فرقہ نے کچھ اصلاح کی مگر کس طرح ممکن تھا کہ نوشتوں کا لکھا ٹل جائے۔ اب میں اس مسئلہ کو لمبا کرنا نہیں چاہتا میں انجیل سے اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ مسیحی تعلیم کا غیر قوموں میں پھیلانا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ خطرناک گناہ ہے ۔ پس جبکہ انجیلی نجات سوائے یہودیوں کے اور لوگوں کے لئے ہے ہی نہیں تو مسیحی بننا ہی بالکل لغو اور بیہودہ فعل ہے۔ اور ان کا نجات کے مسئلہ پر لوگوں سے بحث کرنا ہی فضول ۔ آرین اس کے بعد میں آرین تعلیم کو لیتا ہوں مگر اسے میں زیادہ لمبا تعلیم بھی عام نہیں نہیں کرنا چاہتا اور اگر کروں تو بھی بڑی مشکلات ہیں کیونکہ یہ لوگ تاریخ سے نابلد رہے ہیں۔ ان کی کوئی بات کچی ملتی ہی نہیں۔ جو مرضی آئے یہ کہہ دیں وہ سب سچ۔ مگر غیر مذاہب والے اگر ان کی پچھلی کتابوں یا قدیم نشانات سے کوئی واقعہ نکال کر ثابت کر دیں تو یا ۔ وہ سب بالکل غلط اور نادرست نا قابل اعتبار ہوتا ہے۔ وید کا کوئی ترجمہ صحیح نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔ پنڈت دیا نند نے جو کچھ لکھا اس میں دشمنوں کی دست برد ہمیشہ ہوتی رہی۔ تاریخ دانی کا یہ حال ہے