انوارالعلوم (جلد 1) — Page 231
انوار العلوم جلد 1 ۲۳۱ نجات ظلم کی بات ہے کہ یسوع جس کام کے لئے آیا تھا اور جس کا وہ بار بار اعلان کرتا ہے اس کو ترک کر کے اپنے من مانے کام شروع کر دیئے گئے ہیں۔ توریت اور صحف انبیاء سے غیر قوموں کی منادی منع تھی۔ مسیح ان کی سچائی کو قبول کرتا ہے ۔ پھر بتاؤ کہ کس حکم سے غیر قوموں سے تعلقات پیدا کرنے اور ان میں تبلیغ کرنے کا فتوی ملا۔ دوسرے یہ کہ نہ صرف توریت کی نسبت ہی بلکہ مسیح تو قیموں کے اقوال کی نسبت بھی کہتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ کرو پر جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ نہ کرو۔ چنانچہ تقیمی اور فریسی تو اس کام کو بہت برا کہتے تھے ۔ سو ان کے اقوال کے مطابق بھی حواریوں کو ایسا کرنا نا جائز تھا۔ کیونکہ خود یسوع نے کہا ہے کہ قیدیوں اور فریسیوں کے اقوال پر عمل کرو۔ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ یہودیوں میں غیر قوموں میں تبلیغ کرنا منع تھا مجھے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ خود پطرس رسول کے قول سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ۔ چنانچہ اعمال باب ۱۰ آیت ۲۸ میں اس رسول کی بابت لکھا ہے کہ اس نے ایک سردار کو جو یہودی نہ تھا۔ کہا کہ " تم جانتے ہو کہ یہودی کو بیگانے سے صحبت رکھنی یا اس کے ہاں جانا روا نہیں “ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حواری بھی اس کا اقرار کرتے ہیں کہ یہودی کو دو سرے سے صحبت رکھنی روا نہیں۔ اور اپنا مذہب اسے تلقین کرنا نا جائز ہے۔ پس بموجب اس قاعدہ کلیہ کے جو یسوع نے مقرر فرمایا تھا کہ میں ایک شوشہ تک توریت سے نہ مٹاؤں گا۔ مسیحیت کی تلقین غیر قوموں میں کرنی ناجائز تھی اور ہے۔ پھر اعمال بابا آیت اسے ۳ تک لکھا ہے کہ ” اور رسولوں اور بھائیوں نے جو یہودیہ میں تھے ۔ سنا کہ غیر قوموں نے بھی خدا کا کلام قبول کیا۔ اور جب پطرس یروشلم میں آیا۔ تو مختون اس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے۔ کہ تو نا مختونوں کے پاس گیا۔ اور ان کے ساتھ کھایا " اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کے صلیب پانے کے بعد تک حواریوں کا یہی خیال تھا کہ نا مختونوں اور غیر قوموں میں تبلیغ نا جائز ہے۔ جس سے یہودیوں کا مذہب خوب معلوم ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ یسوع نے صلیبی واقعہ تک اپنے پہلے حکم کو غیر قوموں میں تبلیغ نہ کرنا موقوف نہیں کیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ کھلی یہ بات ہے کہ اعمال باب 11 آیت 19 میں چند رسولوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ پھرتے پھرتے نینیکے وکیرس اور انٹا کیا میں پہنچے ۔ مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سناتے تھے " جس سے خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہودیوں میں غیر قوموں کو ہدایت کرنا