انوارالعلوم (جلد 1) — Page 229
انوار العلوم جلد 1 ۲۲۹ پیشگوئی کی تھی۔ یسوع اسے اپنی نسبت بتاتا ہے۔ اور لوگوں پر حجت قائم کرتا ہے۔ کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ حز قیل نبی نے ایک پیشگوئی کی تھی۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جو کھوئے ہوؤں کو ڈھوندے گا۔ پس جب میں اس کام کے لئے آگیا ہوں۔ تو پھر میرا انکار کیوں کرتے ہو ۔ پس معلوم ہوا کہ خود یسوع بھی اپنا کام بنی اسرائیل کے بارہ گھرانوں کی تلاش بتاتا ہے۔ پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس کا کام تھا بنی اسرائیل کی بھیڑوں کو ڈھونڈنے کا۔ وہ لگ جائے یورپ کی بھیڑوں کی تلاش میں۔ کیا وہ افسر عقلمند سمجھا جاتا ہے کہ گورنمنٹ تو اسے سوڈان پر حملہ کرنے کے لئے بھیجے اور وہ جاپان پر حملہ کر دے۔ اور کیا ایسا نو کر اعتبار کے قابل ہو سکتا ہے کہ جسے کہا تو جائے کہ پینے کے لئے سرد پانی لاؤ اور وہ منہ دھونے کے لئے گرم پانی لے آئے ۔ یا وہ دکاندار لین دین کے قابل سمجھا جائے گا کہ جس سے ٹوپی منگوائی جائے اور وہ جوتی بھیج دے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ یسوع تو بھیجا جائے بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں مگر وہ اس کام کو چھوڑ چھاڑ کر یورپ کی طرف متوجہ ہو ۔ مگر چونکہ یہ کام ایک بہت ہی ناقص عقل اور کو تہ اندیش انسان کا ہے۔ اس لئے یسوع کی طرف ہم اس کو منسوب نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ دوسرے مقامات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر قوموں میں تبلیغ کو برا جانتا تھا۔ پس ہم یہی کہیں گے کہ یسوع کے صلیب دیے جانے کے بعد کسی وقت یہ بدعت نکلی کہ غیر قوموں میں مسیحیت کی تبلیغ شروع ہوئی جو کہ بائبل کی تعلیم کے بالکل بر خلاف تھی۔ کیونکہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یسوع صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے ہی تھا اور نہ باقی دنیا سے اس کا کچھ کام نہ تھا۔ چهارم متی باب ۵ آیت ۷ ۱ سے ۲۰ تک میں ہے کہ ” یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں۔ ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ مٹے گا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔ پس جب کوئی ان حکموں میں سے سب سے چھوٹے کو ٹال دیوے۔ اور ویسا ہی آدمیوں کو سکھاوے آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔ پر جو کہ عمل کرے اور سکھا دے وہی آسمان کی بادشاہت میں سب سے بڑا کہلائے گا۔ " اس آیت میں یسوع نے بین طور سے اپنا کام بتا دیا ہے۔ کہ میں توریت سے ایک نقطہ اور ایک شوشہ تک مٹا نہیں سکتا اور نہ مٹانا چاہتا ہوں۔ اور کوئی حکم جو توریت میں ہو ۔ اس کو منسوخ کرنا میرے اختیار سے بالا ہے۔ یا میں ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اور یہ کہ نہ صرف توریت بلکہ علاوہ توریت کے مجموعہ بائبل میں نجات