انوارالعلوم (جلد 1) — Page 196
انوار العلوم جلد 1 اس لئے کہ شریعت کے عیب نہ کھل جائیں۔ 194 نجات دسمبر 1909ء باقی یہ بات کہ انسان کے لئے نمونہ چاہئے بالکل درست انسان انسانی نمونہ کا محتاج ہے ہے مگر وہ آدمی چاہئے نہ کہ خدا کیا ہمیں معلوم نہیں کہ خدا پاک ہے پھر خدا ہم کو نمونہ کیا دکھائے گا اور کیا جو کام خدا کر سکے وہ بندہ بھی کر سکتا ہے اگر خدا نے ایک نمونہ دکھایا تو کیا ہوا ایک شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ وہ خدا تھا اس نے وہ کام کر لئے میں بندہ ہوں مجھ سے نہیں ہو سکتے انسان پر حجت انسانی نمونہ کی ہو سکتی ہے نہ کہ خدا کے نمونہ کی۔ خدا کو تو ہم پہلے ہی پاک جانتے ہیں اور اگر کہا جارے کہ خدا انسانی قالب میں آیا تھا اور انہیں طاقتوں کے ساتھ تو پھر یہ اعتراض ہو گا کہ جب اس میں وہی طاقتیں تھیں جو انسان میں ہوتی ہیں تو پھر اس میں اور انسان میں فرق کیا رہا۔ بجائے اس کے کہ آپ عرش سے تشریف لاتے یہیں سے کوئی بندہ چن لیا جاتا اور اس صورت میں یہودیوں کو اسبات پر فخر کرنے کا موقعہ بھی نہ رہتا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے خدا کو مارا پیٹا اور سولی پر کھینچ دیا غرض کہ مسیحی جو نجات کیلئے خدا کے نجسم اور کفارہ کے قائل ہیں یہ ایک لغو بات ہے۔ چنانچہ میں اس مضمون پر کچھ اور لکھنے سے پہلے مسیحیوں سے کچھ مسیحیوں سے چار سوال سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اول سب سے پہلے ثابت کیا جائے ۴ کہ خدا تین ہیں کیونکہ جب تک خدا تین ثابت نہ ہو جائیں تو نہ کفارہ رہتا ہے نہ نجات۔ توریت میں تو ہے کہ ہمارے خدا کا شریک کوئی نہیں خروج باب ۸ آیت ۱۸ یهودی اب تک اسی پر عمل کرتے ہیں الفاظ ان کی تائید کرتے ہیں دوم اگر تین خدا ہیں تو یسوع ہی وہ تیسرا خدا ہے کیونکہ بیٹے کا لفظ بہتوں پر بولا گیا ہے آدم کو بھی خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اور اس کا کوئی باپ بیان نہیں کیا بلکہ ملک صدق تو سارے جہاں اور مسیح سے زیادہ ہیں یسوع صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ حواریوں کو بھی خدا کا ار دیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو تو ابن آدم ہی کہتا ہے پس یا تو حواری بھی خدائی میں ساتھ شریک ہیں یا مسیح بھی نہیں اور پھر ایک مشکل ہے کہ متی میں یسوع یوسف کا بیٹا ا کا بیٹا قرار دیتا ۔ قرار دیا گیا ہے جو اور بھی مشکل میں ڈالتا ہے ورنہ یہودی کمبخت بہت کچھ اعتراض کرتے ہیں مگر کچھ بھی ہو انا جیل سے یسوع کی خواہ کس قدر عظمت ہی بیان کی جاوے ملک صدق کے برابر تو وہ ہرگز نہیں پہنچ سکتا کیونکہ جو صفات ملک صدق میں بیان کئے جاتے ہیں وہ اسے یسوع پر بہت کچھ فضیلت دیتے ہیں اور نہ صرف توریت میں بلکہ زبور میں اور پھر اعمال میں بھی اس کا ذکر کیا ہے