انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 194

انوار العلوم جلد 1 ۱۹۴ نجات و سمبر 1909ء ہے مستی باب ۵ آیت ۳۸ تا ۴۱ میں ہے کہ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلہ دانت پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اسکے آگے پھیر دے اور اگر کوئی چاہے کہ تجھ پر نالش کر کے تیری قبالے، کرتے کو بھی اسے لینے دے اور جو تجھے ایک کوس بیگار لے جاوے اس کے کے ساتھ دو کوس چلا جا " اب فرمائیے کہ عدل کہاں رہا۔ توریت نے تو عدل کی تعلیم دی تھی مگر یسوع نے اسکو ایسا تباہ کیا کہ عدل کا نام و نشان ہی نہ ڑا اب بتائیے کہ اگر یہ تعلیم اچھی ہے تو بقول آپ کے کیا دہ نیکی جو نیکی جو انسان میں ہے وہ خدا میں نہیں اور اگر بری ہے تو مسیحی مذہب کا تب بھی خاتمہ ہے پس سچی بات وہی ہے کہ جو اسلام نے بتائی چھوڑا ہے۔ جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةً مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللَّهِ اسلام اصلاح چاہتا ہے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشوری: ۴۱) یعنی تکلیف کا بدلہ اتنی ہی تکلیف ہے مگر جو بخش دے اور ایسی بخشش کرے کہ اس سے اصلاح ہو تو اس کو خدا تعالٰی اعلیٰ اجر دے گا۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ظالمین کو پسند نہیں کر تا یعنی نہ اس کو جس نے ظلم کیا نہ اس کو جس نے باوجود اس کے کہ رحم میں اصلاح ہوتی تھی رحم نہ کیا اور نہ اس کو کہ جس نے ایسے موقعہ پر رحم کیا کہ وہ صریح طور سے فساد پیدا کرنے والا تھا پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ إِنَّ ذلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (الشوری: (۴۴) یعنی جو اصلاح کے لئے صبر کرے اور چشم پوشی سے کام لے اس نے بڑا عظیم الشان کام کیا اس سے پادری صاحب کا پہلا اعتراض بھی اٹھ جاتا ہے کہ مخلوق میں عزم نہیں خدا تعالی نے تو عزم پیدا کرنے کی ترکیب بھی بتادی کہ صبر اور چشم پوشی سے کام لو تو عزم کی صفت تم میں پیدا ہو جائے گی۔ غرض کہ انسان میں عدل اونی درجہ کی صفت ہے اور رحم اس سے اعلیٰ۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ مالک قرار دیا گیا ہے پس مالک مختار ہے کہ جس کو چاہے چھوڑ دے ہاں بے گناہ کو وہ نہیں پکڑتا کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ مَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (ق: ۳۰) یعنی میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ اور یہ کہنا کہ گورنمنٹ رحم نہیں کرتی اس لئے خدا بھی کیا گورنمنٹ رحم نہیں کرتی؟ نہیں کرے گا ٹھیک نہیں کیونکہ کسی گورنمنٹ کا کام حجت نہیں ہو سکتا ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی فطرت ایسا چاہتی ہے اور بقول آپ کے جو نیک صفت ہم میں ہو وہ خدا تعالیٰ میں بدرجہ کمال ہونی چاہئے ۔ علاوہ اس کے یہ بات ہے کہ گورنمنٹ کے کام کا اثر ایک