انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 187

انوار العلوم جلد 1 بسم الله الرحمن الرحیم ۱۸۷ نجات و ممبر 1909ء محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم نجات ۲ دسمبر ۱۹۰۹ء کو پادری میکلین صاحب نے مشن کالج لاہور کے کمپاؤنڈ میں ایک لیکچر اس تمہید: بات پر دیا تھا کہ نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اس لیکچر میں آپ نے گوری باتیں دہرائی ہیں جو ایک مدت سے مسیحی صاحبان فرمارہے ہیں اور جن کا جواب سالہا سال سے دیا جا رہا ہے مگر اس خیال سے کہ مسیحی لیکچروں کو سننے کے بعد اگر لوگوں کو ساتھ ہی مسیحی نجات کی اصل حقیقت بھی معلوم ہو جائے تو شاید کسی نیک فطرت کو فائدہ پہنچے ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے لیکچر کے جواب میں ایک مختصر سا مضمون لکھ کر ظاہر کروں کہ وہ نجات جو پادری صاحب نے بیان فرمائی ہے۔ وہ اصل میں نجات ہے یا نہیں۔ پہلے اس کے کہ میں مسیحی نجات پر کچھ لکھوں گناہ کی تعریف اور جو کچھ اس کی نسبت قرآن شریف بلکہ توریت نے بھی بتایا ہے مختصر بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یاد رہے کہ نجات کا سب دار و مدار تقویٰ اور طہارت پر ہی ہے اگر کوئی گناہ کی اصلیت شخص گناہوں سے بالکل پاک ہو جائے تو وہ نجات پا گیا اور جو گناہوں کے پھندے میں پھنس گیا اور شیطانی تصرف میں آگیا وہ ہلاک ہو گیا۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ کیا ہے یار رہے کہ گناہ نام ہے ان خداداد طاقتوں کے غیر محل استعمال کرنے کا جو کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو عنایت فرمائی ہیں مثلاً انسان کو بہادری عنایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص اس کو اس کے محل پر استعمال نہ کرے اور غیر محل اور ناجائز استعمال شروع کر دے تو اس کا نام ظلم ہو جائے گا اور وہ گناہ کہلائے گا۔ یا ایک شخص کو دولت دی گئی ہے اور وہ اس کو نا جائز طور سے استعمال کرتا ہے تو وہ مسرف کہلا کر گناہ گار ٹھرے گا اور جس کو عقل اور دانائی دی گئی ہو وہ اسے غیر محل استعمال کر کے فریب و دعا کرے تو وہ گناہ گار کہلائے گا اسی طرح اعضائے انسانی میں زبان کو آنکھوں کو کانوں کو ناک کو ہاتھوں کو پاؤں کو غرضیکہ ہر ایک عضو کو غیر محل استعمال کرنے والا گناہ گار ہے اور خدا کے حضور میں قصور وار ۔ اور وہ جو میانہ رو ہے اور صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہیں ہوتا وہ متقی اور پر ہیز گار