انوارالعلوم (جلد 1) — Page 176
انوار العلوم جلد 1 ۱۷۶ ہم کسی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں وقت میں اس کے لئے ایندھن جمع کریں اب یہ ایسا وقت تھا کہ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور لگے موسی کو برابھلا کہنے کہ آگے تو پھر بھی کچھ وقت خالی رہتا تھا اس کے آنے سے وہ بھی جاتا رہا اور آگے سے بھی زیادہ مصیبت پڑی مگر کیا خدا کا کلام جھوٹا نکلا؟ نہیں۔ اس کے پورا ہونے کا وقت قریب تھا ہاں یہ واقعہ جو ہوا تو صرف اس وجہ سے کہ تا خدا انہیں بتائے کہ یہ کام جو کچھ ہوا یہ بنی اسرائیل کی کوششوں اور تدبیروں سے نہیں ہوا بلکہ محض خدا کے فضل سے اور اس کے وعدہ کے مطابق ہوا اور اس نے ظاہر کیا کہ جب انسان کچھ نہیں کر سکتا اور بات نا ممکن ہو جاتی ہے تو اس وقت میں اسے کر کے دکھا دیتا ہوں۔ پس جب بنی اسرائیل طرح طرح کے عذابوں کی تاب نہ لاسکے اور ان کی شیخ وپکار بڑھ گئی اور انہوں نے آہ وزاری شروع کی تو خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو فرعون کے ہاتھوں سے بچایا اور اس کو مع اپنی فوجوں کے سمندر میں غرق کیا اور یہ اس لئے ہوا کہ بنی اسرائیل نے اس کے دکھوں سے تنگ آکر بہت آہ و زاری کی تھی پس خدا نے بنی اسرائیل کے آنسوؤں کو سمند ربنا کر فرعون کو غرق کیا اور وہ فرعون جو حضرت موسی سے نہیں کرتا تھا اسے اپنا جلوہ سمندر کی تہہ میں دکھایا اور بتا دیا کہ خدا جیسا آسمان پر ہے ویسا زمین پر بھی ہے پس تو مکان کیوں بناتا ہے آمیں تجھے چہرہ زمین کی تہہ میں سمندر کی لہروں کے نیچے دکھادوں۔ پس اس طرح خدا کا وعدہ پورا ہوا اور جو موسیٰ سے کہا گیا تھا لفظ بلفظ سچا ثابت ہوا پھر دو سرا وعدہ خدا تعالیٰ نے ہمارے آنحضرت الی اور سمجھ سے سے کیا اور جب کہ آپ بالکل تن تنہا تھے اس وقت آپ کو وہ خبر دی جو انسانی عقل اور بالا تھی۔ یعنی آپ کو وعدہ دیا کہ ایک بڑی قوم آپ کے ساتھ ہو گی اور آپ کا نور کل دنیا میں پھیل جائے گا اور وہ مکہ جہاں آپ بے کسی کی حالت میں رہتے تھے اسی میں آپ فاتح ہو کر آئیں گے پس یہ ایسے وعدے تھے جن پر ایمان لانا تو الگ اس وقت کے لوگ حیران ہوتے تھے کہ کیا یہ کسی عقل مند کے منہ سے نکل سکتے ہیں۔ وہ یتیم جو خود محتاج تھا اس کو وعدہ دیا جاتا ہے کہ تیری وجہ سے دنیا کے تیموں اور بیواؤں کی پرورش ہو گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کل دنیا نے ان وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ لیا اور اس وقت کروڑوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے مسلمان اس وعدہ کا نتیجہ ہیں پس یہ وعدہ بھی خدا نے بڑے زور و شور سے پورا کیا۔ پھر ایک اور وعدہ تھا جو حضرت عیسی سے کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اس کے متبع اس کے منکروں پر غلبہ پائیں گے اور ایسا غلبہ پائیں گے کہ پھر اس کے مخالف کبھی سر نہ اٹھائیں گے اور ہمیشہ آپ کے متبعین کے ماتحت ہی رہیں گے ۔ شروع شروع میں یہودیوں نے زور لگایا اور اس : اور اس خدا کے برگزیدہ کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا مگر خدا نے ۴