انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 174

انوار العلوم جلد 1 ۱۷۴ ہم کسی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں کام آئے گا۔ خدا تعالیٰ ایسے تاجروں کا خود خزانچی بن جاتا ہے پس جس کا خزانچی خدا ہو اس کو اور کسی کی کیا ضرورت ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا خزانچی امین ہو۔ پس جب خدا سا امین خزانچی ملے تو اور کیا چاہئے اور خدا کے پاس مال رکھوانے میں صرف میں فائدہ نہیں کہ وہ امین ہے بلکہ علاوہ امانت کے وہ اس مال کو بڑھاتا ہے اور جب مال واپس کرتا ہے تو ہزاروں لاکھوں بلکہ غیر محدود گنا زیادہ کر کے دیتا ہے پس اس تجارت اور امانت میں فائدہ ہی فائدہ ہے کوئی نقصان نہیں مگر شرط یہ ہے کہ پہلے اپنی جان و مال کو خدا کے سپرد کر دے اور اپنے وجود کو بیچ میں سے الگ کرے ہاں جب وہ ایسا کرلے گا تو پھر اسے چند روزہ زندگی کے بدلہ غیر محدود زندگی ملے گی اور اس تھوڑے سے مال کے بدلہ بے شمار دولت ملے گی۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ یعنی ایسے مؤمن جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال خدا کے ہاتھ جنت کے بدلہ میں بیچ دیتے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کا فرض یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کریں پس اس جگہ خدا تعالیٰ ان کو اپنے راہ میں جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے آگے جہاد خواہ تلوار کا ہو خواہ قلم کا خواہ زبان کا خواہ کسی اور خشم کا۔ پس جب انسان کچھ روپیہ کے بدلے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر فوج کی نوکری کرتا ہے تو وہ خدا کی فوج میں کیوں داخل نہیں ہوتا جہاں بے تعداد اجر ملتا ہے ۔ ہر ایک انسان فطرتا کہیں نوکری کرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے کہ کہیں مجھ پر پیچھے کوئی آفت تو نہیں آئے گی۔ چنانچہ اکثر لوگ ان ریاستوں میں جہاں بد نظمی پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ نوکری نہیں کرتے کہ کہیں لینے کے دینے نہ آئیں اور تنخواہ کے علاوہ جائیداد تک ضبط نہ ہو (جیسے اکثر ریاستوں میں ہوتا ہے) پس جس کو خدا جیسا وعدوں کا پورا اور مہربان مالک نوکر رکھے اسے اور کیا چاہئے ان دنیاوی گورنمنٹوں کے پاس انسان کچھ روپیہ کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور جنگوں میں سر کٹواتا ہے۔ ممکن ہے کہ جنم کے دروازے ان کے لئے کھولے جاویں مگر جو خدائی گورنمنٹ کی راہ میں مارا جاتا ہے یعنی دین کی خدمت کرتا ہوا فوت ہو جاتا ہے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے اور جنت کی حوریں اس کی منتظر ہیں ۔ پھر دنیا دی گورنمنٹوں کے ملازم سپاہی جب ہزاروں معرکہ مار کر پنشن لیتے ہیں تو ان کو نصف پنشن ملتی ہے ۔ * مگر خدا کا سپاہی جب پنشن لیتا ہے یعنی فوت ہوتا ہے تو اس قدر عظیم الشان پنشن دی جاتی ہے کہ اس کے اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ انسان دنیار ہی کام چھوڑ دے بلکہ ایک ہی وقت میں انسان کسی گورنمنٹ کا نو کر اور خدا کا سپاہی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اور راہ ہے اور یہ اور انسانی گورنمٹیں جسموں پر حکومت کرتی ہیں مگر خدائی گورنمنٹ کا ہیڈ کوارٹر دل ہوتا ہے۔