انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 149

انوار العلوم جلد 1 ۱۴۹ حصادقوں کی روشنی بات بات پر اعتراض کرتے تھے فوراً بول اٹھتے اور شور مچا دیتے کہ دیکھو ایسا مت کہو ہم بنی اسرائیل نہیں۔ اور اپنے والدین کا نام بتاتے کہ ان لوگوں کی اولاد سے ہیں۔ اور پھر قرآن شریف میں حضرت ابراہیم کی نسبت آتا ہے کہ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَ يَعْقُوبَ (الانعام : ۸۵) یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو اسحق اور یعقوب عطا کئے حالانکہ حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے بیٹے نہ تھے۔ بلکہ حضرت اسحق کے لڑکے تھے ۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کے کلام میں ایسا آجاتا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور پھر قرآن شریف میں آتا ہے وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ ( البقرہ: ۷۴) حالانکہ مخاطب تو وہ تھے جو نبی کریم ﷺ کے مخالف تھے ۔ اور حوالہ ان کا دیا جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں گزرے ہیں۔ کیا یہودیوں کا حق نہ تھا کہ وہ کہتے کہ یہ غلط ہے ہم سے طور کے نیچے کوئی معاہدہ نہیں لیا گیا ۔ مگر افسوس کہ وہ آج کل کے معترضین سے زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کبھی پہلوں کا نام لیا جاتا ہے اور مخاطب پچھلے کئے جاتے ہیں۔ اور پہلے مراد ہوتے ہیں۔ اور بیٹے سے پوتا یا پڑپوتا یا نسل میں سے کوئی اور شخص مراد ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہوتی۔ پھر مسلمانوں کو بہت سے حکم قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ ہیں۔ حلا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (الساق : ۲) یعنی اے نبی جب طلاق دو تم عورتوں کو تو طلاق دو ان کو ان کی عدت پر ۔ تو کیا یہ احکام خاص حضرت نبی کریم ال کے لئے ہیں۔ اور دوسرے مسلمان اس سے بری ہیں۔ اور اگر بفرض محال وہ شامل ہو گئے تو آج کل کے مسلمان تو ضرور اس کی پابندی سے آزاد ہوں گے ۔ پس جب ایسا نہیں ہے اور کلام الہی میں اس قسم کا کلام آجاتا ہے۔ تو اس بے فائدہ اعتراض سے کیا فائدہ ۔ اعتراض تو ایسا ہونا چاہئے جو عقل کے مطابق ہو اور پہلے انبیاء پر نہ پڑے جب ایک اعتراض سے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور کل انبیاء علیہم السلام پر حرف آتا ہے تو آتا ہے تو ایسا اعتراض بجائے فائدہ کے الٹا عذاب الہی کا موجب ہوتا ہے۔ پس وہ جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں خوش ہوتے ہیں چاہئے کہ ڈریں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیرت شریر کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑتی اور بے جا طعنہ کرنے والا خود مورد قهر الہی ٹھرتا ہے۔ غور کرو کہ قرآن شریف میں صاف آتا ہے وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبُكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمْكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الج : ۷۹) اور کوشش کرو اللہ کی راہ میں خوب کوشش ۔ جس نے پسند کیا تم کو اور نہیں کی تمہارے لئے دین لئے دین میں کوئی تنگی ۔ وہ دین جو تمہارے باپ ابراہیم کا ہے جس نے تمہارا