انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 146

انوار العلوم جلد 1 ۱۴۶ صادقوں کی روشنی ১১ يل کیا آپ کو خبر نہیں کہ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَ شَاءُ وَيُثبِتُ نکاح آسمان پر پڑھا گیا یا عرش پر مگر آخر وہ سب کاروائی شرطی تھی۔ شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اس کو سوچنا چاہئے ۔ کیا یونس کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے چھ سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے " (حقیقۃ الوحی تمہ صفحہ ۱۳۳ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۷۰ ۲۲ صفحہ ۵۷۰-۵۷۱) اب غور کرنا چاہئے کہ حضرت سیح موعود " اس پیشگوئی کی نسبت اپنی زندگی میں ہی لکھ گئے ہیں اور فیصلہ کر گئے ہیں کہ یا تو وہ کسی اور وقت پر ٹل گیا ہے یا بالکل مسخ ہو گیا ہے۔ پس اب اس پیشگوئی پر اعتراض کرنا نہایت جہالت پر دلالت کرتا ہے ۔ کاش کہ لوگ پہلے بات کی تہ کو پہنچیں اور پھر اعتراض کیا کریں۔ یاد رہے کہ آج سے ایک سال پہلے حضرت اقدس یہ فیصلہ کر چکے ہیں ۔ کہ وہ نکاح بوجہ عورت اور مرد دونوں کے رشتہ داروں کے رجوع کے منسوخ ہو چکا ہے۔ اور اگر آپ ایسا نہ بھی لکھتے تو بھی چونکہ وہ پیشگوئی شرطی تھی۔ ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا تھا کہ چونکہ ان لوگوں نے جن کی نسبت یہ پیشگوئی تھی رجوع کیا اور توبہ کی اور اس شوخی سے باز آئے جو وہ پہلے دکھلاتے تھے تو وہ فیصلہ بھی ان پر سے ٹل گیا۔ پس باوجود اس کے پھر اعتراض کرنا اچھا نہیں۔ اور ہر ایک معترض کو خدا سے ڈرنا چاہئے کہ وہ بڑی غیرت والا ہے اور اپنی آیات پر بننے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑتا۔ تیسری بات جس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ وہ پانچویں بیٹے کی پیشگوئی ہے جس کی نسبت مخالفین سلسلہ کا خیال ہے کہ وہ اب تک پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ حضرت اقدس نے مواہب الرحمن کے صفحہ ۱۳۹ پر صاف طور سے لکھا تھا۔ کہ بَشَّرَنِي بِخَامِسَ فِي حِيْنٍ مِنَ الْأَحْيَانِ منی مجھے ایک پانچویں بیٹے کی بشارت دی گئی ہے اور اسی طرح اور بہت سے الہامات سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپ کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہونے والا ہے مثلا یہ کہ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ يَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَكِ سَاهَبٌ لَكَ غُلَامًا زَكِيَّا رَبِّ هَبْ لِي ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَا كَانَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مگر ان پیشگوئیوں کے ساتھ ہی مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس کا ایک الہام جو کہ اخبار الحکم ۳۰ جون ۱۸۹۹ء کو شائع ہو چکا ہے۔ یعنی إِنِّي اسْقُطُ مِنَ اللهِ وَاصِيبُهُ یعنی میں اللہ تعالی کی طرف سے آتا ہوں اور اس کی طرف جاتا ہوں۔ پھر اس کے بعد الہام ہوا " كفى هذا " ۔ اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ یہ مبارک احمد کی