انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 144

انوار العلوم جلد 1 ۱۴۴ صادقوں کی روشنی الهام منسوخ ہو گیا۔ اور اب دوسرے الہام کے مطابق ہم کو نتیجہ کا انتظار کرنا چاہئے تھا سو ایسا ہی ہوا اور آپ عین اسی وقت پر جو کہ بتایا گیا تھا فوت ہوئے۔ پس یہ کیسی صاف بات ہے کہ جب تک کہ حضرت اقدس کہتے رہے کہ میری عمر اسی سال کے قریب ہے اس وقت تک تو آپ زندہ رہے اور آپ نے اس الہام کے مطابق چونتیس سال عمر پائی۔ مگر جب آپ نے الہام شائع کیا کہ اب میری وفات قریب ہے ۔ تو آپ میعاد مقررہ کے اندر فوت ہو گئے ۔ اور اس طرح دو نشان پورے ہوئے اور حضرت اقدس کی سچائی کا ثبوت ہے۔ پس بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ اسی برس والے الہام کے مطابق فوت نہیں ہوئے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ الوصیت نے تو اس الہام کو منسوخ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ تک بندی نہیں تھی بلکہ خدا کا کلام تھا۔ ممکن تھا کہ اگر الوصیت والا الهام پورا نہ ہو تا تو لوگ کہتے کہ آپ نے ایک بڑ مار دی تھی کہ میری عمر اس قدر ہو گی سوپوری ہو گئی مگر خدا تعالٰی نے موت کے الہامات سے ثابت کر دیا کہ سب کام خدا کے اختیار میں ہیں وہ جب چاہتا ہے کسی کو لمبی عمر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو وفات دیتا ہے۔ اور اس طرح اس نے حضرت اقدس کے الہامات کی سچائی کو بھی ثابت کر دیا ۔ ہاں اگر الوصیت میں موت کی پیشگوئی نہ ہوتی تو لوگ کہتے کہ وہ وقت مقررہ سے پہلے فوت ہوئے لیکن جب الوصیت سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ اب وفات قریب ہے۔ تو خود بخود پہلی پیشگوئی چونتیس برس تک اپنا جلال دکھا کر منسوخ ہو گئی اور موت کی پیشگوئی کا انتظار شروع ہوا۔ پس اگر یہ نہ بھی مانا جائے کہ حضرت کی عمر ۷۴ سال کی ہوئی اور اسی سال کے قریب ہوئی جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں۔ تو پھر بھی آپ پر کوئی الزام نہیں آتا کیونکہ جب موت کے الہام ہو گئے تو معلوم ہوا کہ اب کچھ سال عمر باقی بھی ہے تو وہ بھی منسوخ ہو گئی۔ غرضیکہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی مخالف یا معترض کا ہاتھ نہیں پڑ سکتا کیونکہ اول تو میں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ پیشگوئی کے مطابق عمر پا کر فوت ہوئے اور اگر بفرض محال نہ بھی ہوئے تو الوصیت کے بعد وہ پہلی پیشگوئی منسوخ سمجھی جائے گی کیونکہ وہ اگر عمر کی زیادتی ظاہر کرتی تھی تو یہ عمر کا انقطاع ظاہر کرتی تھی پس ہر طرح سے خدا کا کلام سچا ثابت ہوتا ہے۔ اور مخالف معترض کا کوئی حق نہیں کہ وہ بغیر علم کے لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کے حکم کے بر خلاف خواہ مخواہ اعتراض کرے ورنہ یاد رہے کہ اس قسم کے اعتراضوں سے کوئی نبی نہ بچے گا۔ -۲ دوسری بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں۔ وہ نکاح والی پیشگوئی ہے۔ جس کی نسبت مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں اور وہ پوری نہیں ہوئی ۔ سویا د رہے ۔