انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 142

انوار العلوم جلد 1 ۱۴۲ صادقوں کی روشنی بھی اس کا ثبوت دے سکتا ہوں اور خود مخالفین کے کلام سے ثابت کر سکتا ہوں کہ حضرت کی عمر ۷۴ سال کی تھی چنانچہ حضرت اقدس کی وفات پر جو مضمون زمیندار کے لائق ایڈیٹر نے لکھا ہے اس میں وہ لکھتے ہیں کہ " مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲ تا ۲۴ سال کی ہوگی اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے ۔ کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا زمیندار اخبار پرچہ ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۵۔ اب دیکھنا چاہئے کہ جب ساٹھ یا اکا سٹھ میں آپ کی عمر ۲۴ کے قریب تھی تو ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر شمسی حساب سے ۷۲ یا اس سے کچھ کم ہوئی اور قمری حساب سے ۷۴ سال یا کچھ زیادہ۔ اور یہ ایک ایسی گواہی ہے جو خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کے منہ سے دلوائی جو اس سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ پس کیا اس پر بھی کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے ؟ اس کے بعد ہم ایک اور گواہی ایک ایسے مخالف کی پیش کرتے ہیں جس کا کام سوائے اس سلسلہ کی مخالفت کے اور کچھ بھی نہیں اور جو اس سلسلہ کی مخالفت میں جھوٹ بولنا بھی جائز سمجھتا ہے یعنی اب ہم مولوی شاء اللہ امرتسری کی تحریر سے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت اقدس اپنے الہام کے مطابق عمر پا کر فوت ہوئے اور وہ یہ ہے کہ ” باقی رہا یہ کہ سب مخالفین کو مار کر مریں گے (یعنی حضرت اقدس) سواس سوال کا جواب بھی مرزا جی اپنے رسالہ الوصیت میں لکھ کر نفی میں دے چکے ہیں۔ یعنی کہہ چکے ہیں کہ میری موت عنقریب اسی سال کی عمر کے کچھ نیچے اوپر ہے۔ جس کے سب زینے آپ غالبا طے کر چکے ہیں" (اہلحدیث " ب " (اہلحدیث ۳ / مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ صفحہ ۶) اس عبارت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف حضرت مسیح موعود ہی لکھ چکے ہیں کہ اتنی سال والے الہام کے مطابق میری عمر ختم ہو چکی ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ بھی اس بات کو مانتا ہے اور لکھتا ہے کہ آپ غالبا سب زینے اس پیشگوئی کے طے کر چکے ہیں۔ پس جبکہ دوست اور دشمن سب اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت کی وفات عین پیشگوئی کے مطابق ہوئی تو اب اس پر اعتراض کرنا سرا سر بیجا اور حق طلبی کے بر خلاف ہے مگر اسکے ساتھ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عمر کا حساب کچھ ایسا پختہ نہیں ہوتا۔ اور نہ عام طور سے تاریخ پیدائش محفوظ رکھی جاتی ہے۔ اور خود حضرت مسیح موعود کی تاریخ پیدائش اور مہینہ محفوظ نہیں۔ اگر کسی وقت آپ نے انداز کچھ اور عمر بتادی ہو تو اس سے ہو تو اس سے اس بات میں کوئی ۔ کوئی ہرج نہیں آتا۔ کیونکہ عام طور سے عمر کے معاملہ میں زیادہ احتیاط نہیں ہوتی۔ اور بہت جگہ اندازہ سے کام لیا جاتا ہے۔ مگر اس جگہ جو عمر ہم نے لکھی ہے وہ خوب تحقیق سے لکھی گئی ہے۔ اور نہ صرف حضرت