انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 137

انوار العلوم جلد | ۱۳۷ صادقوں کی روشنی ९९ میں نہ ڈالیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کے بعد شاء اللہ کا زندہ رہنا بجائے اس کی سچائی کے اس کا کذاب اور مفسد ہونا ثابت کرتا ہے میں کافی لکھ آیا ہوں۔ اب یہ لکھتا ہوں کہ یہ شخص اپنی معمولی شوخی کے مطابق اس دعا کا نام مباہلہ رکھتا ہے جس کا انکار بھی کر چکا ہے چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس کے بر خلاف مضمون لکھتا ہوا لکھتا ہے کہ ”مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں"۔ پھر اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتا ہے کہ "قسم اور ہے مباہلہ اور ہے۔ قسم کو مباہلہ کہنا آپ جیسے ہی راست گوول ار است گوؤں کا کام ہے۔ اور کسی کا نہیں ۔ اب ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ نے جب خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقابلہ پر قسمیں کھانے کا نام مباہلہ ہے اور اس کے سوا کسی اور بات کو مباہلہ قرار دینا راست گوئی کے خلاف ہے۔ اور بالکل جھوٹ ہے تو اب اس کا اس دعا کو جو کہ حضرت صاحب نے شائع کی تھی مباہلہ قرار دینا افتراء نہیں تو اور کیا ہے اور دعا میں نہ تو حضرت صاحب نے قسم کھائی ہے نہ شاء اللہ نے پھر باوجود اس کے اس کو مباہلہ قرار دینا خود اسی کے فیصلہ کے مطابق اس کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو چاہئے کہ وہ اس کے مکر اور فریب میں نہ آئیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ خود یہی ایک سال پہلے ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء کے اہلحدیث صفحہ ۴ میں مباہلہ کی وہ تعریف جو اوپر لکھ آیا ہوں لکھ چکا ہے۔ اور اس کے برخلاف یکطرفہ قسم کو بھی مباہلہ کہنے والے کی نسبت جو فتوی دے آیا ہے اوپر درج ہے۔ پس جبکہ یک طرفہ قسم بھی مباہلہ نہیں ہو سکتی تو وہ دعا جو بغیر قسم کے کی گئی ہو اور فریق مخالف نے اس کو منظور بھی نہ کیا تو وہ کیونکر مباہلہ ہو سکتی ہے۔ اور اس کا مباہلہ کے رنگ میں پیش کرنا کہاں تک موجب راستی ہو سکتا ہے۔ اس شخص نے چاہا کہ عوام کو دھوکہ دے لیکن خدا جس کی پردہ دری کرنا چاہے پھر اس کی حماقت اور دروغ بیانی پر کون پردہ ڈالے ۔ افسوس با وجود ان جھوٹوں اور فریبوں کے اور دغا بازیوں کے پھر یہ لوگ خدا کے مامور اور مرسل کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر بڑے بڑے علم و فن کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب میں چونکہ ثناء اللہ کی نسبت خدا کے فضل سے کافی لکھ آیا ہوں اس لئے مضمون کے اس حصہ کو ختم کر کے دوسرے کو شروع کرتا ہوں۔ مگر آخر میں خلاصتہ پھر لکھتا ہوں کہ شاء اللہ کی نسبت حضرت صاحب نے دعا کی تھی اور اوپر لکھ دیا تھا کہ میں یہ وحی یا الہام کے ذریعہ نہیں کہتا اور باوجود اس کے شاء اللہ نے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کیا اور لکھا کہ ” یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے " پھر باوجود اس انکار کے اس کا یہ دعوی کہ مرزا صاحب میرے مباہلہ کی وجہ سے فوت ہوئے صریح شرارت ہے ۔ جب یہ خود اس فیصلہ کو غلط قرار دے چکا ہے اور