انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xv

انوار العلوم جلدا تعارف کتب ترانیوں کے جواب بھی دیئے گئے ہیں اور یہ جو حضرت اقدس کی پیشگوئیوں پر اعتراض کئے جاتے ہیں ان کا بھی رد کیا گیا ہے "۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل متواتر الهامات کے ذریعے قرب وفات کی خبر خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنی شروع ہو گئی تھی اور انہی الہامات کی شنی میں دسمبر ۱۹۰۵ء میں آپ آپ نے نے رسالہ' رسالہ " الوصیت " شائع کیا۔ اور انہی الہامات کے عین ۔ مطابق آپ ۱۹۰۸ء میں وفات پاگئے ۔ حضرت فضل عمر نے اس کتاب میں انہی الہامات کو بیان کر کے ثابت کیا کہ آپ کی وفات ان الہامات کے عین مطابق واقع ہوئی۔ اور اس طرح آپ کی وفات آپ کی سچائی کا ایک زبر دست ثبوت بن گئی اس کے بعد آپ نے عبدالحکیم مرتد کے اس دعوئی کا رد کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا ذکر فرمایا کہ ان صاحب کی بار بار کی تکفیر اور شرارتوں کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بار بار چیلنج دیا کہ آؤ خدا کے دربار سے فیصلہ کرالیں اور ہر دفعہ یہ اپنا دامن کوئی سطحی تاویل پیش کر کے چھڑا لیتے تھے۔ تو بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یکطرفہ طور پر ایک دعائیہ تحریر شائع کی اور لکھا کہ مولوی شاء اللہ اس کو اپنے اخبار میں شائع کر دیں اور جو چاہیں نیچے لکھ دیں تو مولوی صاحب نے اس فیصلہ سے انکار کرتے ہوئے صاف لکھ دیا کہ چونکہ اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا ہے۔ اس لئے آپ کی یہ دغا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح اس نے اس دعا میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ۔ مزید بر آن ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء کے رسالہ اہل حدیث " میں اس کے نائب ایڈیٹر کی طرف سے یہ نوٹ شائع ہوا: کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد اور نا فرمان لوگوں کو بھی لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں"۔ اس نوٹ کی کبھی بھی مولوی شاء اللہ کی طرف سے تردید شائع نہیں ہوئی۔ اور جب حضرت سیح موعود علیہ السلام اپنے الہامات کے مطابق وفات پاگئے تو یہ واویلا کرنا کہ یہ اس دعا کے نتیجہ میں ہوا یہ سراسر جہالت اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے حالانکہ ان کو اپنے عقیدے اور اعلان اقرار کے مطابق ڈھیل دی گئی تھی جو انہوں نے زور و شور سے شائع کیا تھا اور اس طرح شور سے شائع اپنے کذب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر مہر ثبت کر دی تھی۔