انوارالعلوم (جلد 1) — Page 119
انوار العلوم جلد ) ۱۱۹ صادقوں کی روشنی نہیں کرتا۔ وہ موسمی کھانسی تھی۔ اور اسی موسم میں اچھی ہو گئی ۔ اور پھر دروغ گو را حافظہ نباشد کی مثال آپ پر کیسی صادق آتی ہے کہ یہ لکھ کر کہ مجھ کو الہام ہوا تھا کہ مرزا پھیپھڑے کی مرض سے ہلاک ہو گا۔ آپ آگے لکھتے ہیں کہ مرزا مرض ہیضہ سے ہلاک ہوا۔ شاید آپ کی خدائی طب میں ہیضہ پھیپھڑے سے بھی پیدا ہوتا ہو گا۔ ان ا ہو گا۔ افسوس اے عبدالحکیم اگر تو ذرا بھی خشیت خدا سے کام تو آج اس درجہ کو کیوں پہنچتا۔ شرم ! شرم !! شرم !!! لیتا اس کے علاوہ ایک اور اور جھوٹ عبدالحکیم خاں نے بولا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک اپنا الهام مختلف اخباروں میں شائع کیا تھا۔ کہ مرزا ۲۱ ساون مطابق ۴ / اگست کو فوت ہو جائے گا۔ اور مختلف لوگوں کو خطوط میں بھی ہیں لکھا تھا۔ جن میں سے ایک دو ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ اور پیسہ اخبار میں آپ کے خط کا فوٹو بھی شائع ہو چکا تھا۔ مگر باوجود اس کثرت اشاعت کے آپ نے اپنے رسالہ اعلان الحق میں یوں لکھا ہے کہ میں نے شائع کیا تھا کہ ۱۴ اگست تک مرزا فوت ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اگر مختلف اخباروں میں یہ شائع نہ ہو چکا ہو تا۔ تو یہ کذب بیانی کام بھی آتی۔ مگر باوجود اس قدر شہادتوں کے آپ کا اس طرح دلیری سے بات بدل لینا کمال درجہ جرأت پر دلالت کرتا ہے۔ اور اس کی وجہ سوائے لالچ کے اور کچھ نہیں۔ آپ نے سمجھا کہ حضرت اقدس فوت تو ہو ہی گئے ہیں۔ اس وقت جھوٹ بول کر بھی کام نکال لینا روا ہے کیونکہ دروغ مصلحت آمیز جائز ہے۔ اور اگر اور کچھ نہیں تو کم سے کم دوائیوں اور کتابوں کا اشتہار تو ہو جائے گا۔ اور ان کی بکری سے کچھ کچھ نہ نہ کچھ کچھ نفع تو مل ہی رہے گا۔ چنانچہ آپ نے اعلان الحق میں جس میں اپنی رسالت اور مرزا صاحب کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ مختلف دواؤں اور کتابوں کا بھی اشتہار دیا ہے اور شاید اس اشتہار میں یہی مصلحت سمجھی ہو کہ حضرت اقدس کی مخالفت کی وجہ سے اشتہار کو لوگ پڑھیں گے۔ اور ساتھ ہی اصل مقصد بھی حاصل ہو جائے گا مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ دعوی رسالت کو پیش کرتے ہوئے بھی آپ جھوٹ بولنے سے نہ چوکے ۔ پیسہ اخبار وطن اہل حدیث یونین گزٹ اور دیگر کئی اخباروں میں آپ کی پیشگوئی چھپ چکی ہے۔ اور خود آپ نے اپنے رسالہ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ان ان اخبارات میں میری پیشگوئی شائع ہو چکی ہے۔ اور پھر باوجود اس کے ۴ / اگست کو " کی جگہ آپ نے ”۴ / اگست تک بنالیا۔ تف بر ایں د ابراین دعوئی مسلمانی ۔ اسه چه دلاور است دزدی که یک چراغ دارد جب رسول یہ کام کرنے لگے تو امت کیا کرے گی؟ ९९