انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 116

انوار العلوم جلد 1 ١١۶ صادقوں کی روشنی تمہارے دلوں سے کیوں اٹھ گیا اور یوم الدین پر تمہیں کیوں ایمان نہیں رہا۔ دین کے مغز کو چھوڑ کر قشر کی طرف لپک رہے ہو۔ اور نہیں دیکھتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ کیارہ اسلام کا خدا جو غیور خدا ہے جو شریر اور بد بخت انسان کو بغیر سزا دیے کے نہیں چھوڑ تا تمہارے اعمال و اقوال سے ناواقف ہے۔ کیا یہ بغض اور کینہ اور عداوت جو تم اس کے مامور سے ظاہر کر رہے ہو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ کیا وہ خدا جس نے نوح کے وقت میں کفار کو غرق کیا اور لوط کی بستی کو الٹا دیا اور عیسی کے مخالفوں کو ذلیل و خوار کیا اور نبی کریم الل کے دشمنوں کو تباہ و برباد کیا اور جو رسول دنیا میں آیا اس کی مدد کی اور جنہوں نے انکار کیا انہیں ہلاک کیا۔ آج اپنے رسول کی مدد چھوڑ دے گا اور اپنی سنت اور وعدوں کے خلاف اس کے قائم کئے ہوئے سلسلہ کو تباہ ہونے دے گا۔ ہاں ذرا غور تو کرو کہ آدم سے لے کر حضرت نبی کریم ﷺ تک جو وعدے مسیح موعود کی نسبت کئے گئے تھے کیا وہ خالی جائیں گے ۔ اور شیطان بغیر سزا کے چھوڑ دیا جائے گا۔ اور کفر ایمان کو کھا جائے گا۔ اور شرک توحید پر غالب آجائے گا۔ اور کیا تم یقین کرتے ہو کہ اس کے بعد اسلام کا کوئی نام بھی لے گا۔ اور وہ دین جو نبی کریم اور صحابہ نے خدا کی خاطر اپنی جانیں قربان کر کے قائم کیا تھا اس کی طرف کوئی رجوع بھی کرے گا؟ پس جب ایسا نہیں ہے۔ اور خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑتا۔ اور ان کو مدد اور نصرت دیتا ہے۔ اور جس کام کے لئے ان کو بھیجتا ہے اس کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔ اور ان کے ارادوں کو پورا کرتا ہے۔ اور ہر میدان اور ہر لڑائی میں ان کو فتح دیتا ہے۔ اور ہمیشہ کامیابی ان کے ساتھ رہتی ہے۔ اور ان کے دشمن ہلاک کئے جاتے ہیں۔ اور دین و دنیا میں ذلیل کئے جاتے ہیں۔ اور وہ جو چشم بصیرت رکھتے ہیں اپنی آنکھوں سے سچائی اور جھوٹ میں فرق دیکھ لیتے ہیں۔ تو آج بھی جبکہ خدا نے ایک رسول بھیجا اور اس کو وعدہ دیا کہ دنیا میں تیرا نام روشن کروں گا۔ اور تیرے دشمنوں کو ہلاک کروں گا۔ اور وہ جو تیرے ساتھ ہوں گے ہمیشہ ان کی مدد و نصرت کروں گا۔ اور ان کے مقابل کھڑے ہونے والوں کو پسپا کروں گا۔ وہ ہر ایک دشت اور ہر ایک میدان اور ہر ایک پہاڑ اور ہر ایک وادی میں فتح پائیں گے۔ یہاں تک کہ فرمایا جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (تذکرہ :(1) یعنی وہ جو تیرے تابعدار ہوں گے انہیں تیرے منکروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا۔ اور ان کا ہاتھ ہمیشہ ان کے اوپر رہے گا۔ تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ جو مخالفت کرتے ہیں بغیر عذاب کے چھوڑے جائیں اور انہیں موقعہ دیا جائے کہ سچائی کے طرف داروں کو ہلاک کر دیں۔ پس خدا سے ڈرو اور توبہ کرو تا کہ خدا اپنے عذابوں کو تم