انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 108

انوار العلوم جلد 1 ۱۰۸ صادقوں کی روشنی بتلائی تھی۔ اور اس نے ۱۴ اگست تاریخ مقرر کی تھی۔ چنانچہ آپ مطابق خدائی الہام کے اس تاریخ کو فوت ہو گئے اور اس کو کذاب ثابت کر گئے ۔ اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ شخص شیطان سے خبر پانے والا ہے۔ کیونکہ جب تک کہ حضرت کے الہامات سے سرقہ کرتا رہا تب تک تو کسی قدر راستی پر رہا۔ اور جونہی بلند پروازی شروع کی اور چاہا کہ اپنے شیطانی الہاموں کا رحمانی الہاموں سے مقابلہ کرے تو رہیں ہلاکت کا منہ دیکھا اور سخت دلیل اور خوار ہوا۔ اور دنیا نے اس کی اصلیت کو پالیا اور صادق اور کاذب کا فیصلہ ہو گیا اب کیا کوئی شخص باوجود ایسے صریح ثبوتوں کے اس کی نسبت ایک لمحہ کے لئے بھی گمان کر سکتا ہے کہ یہ اپنے اندر کچھ بھی صداقت رکھتا ہے۔ اور کیا کوئی سعید روح اب بھی حضرت صاحب کی سچائی کا انکار کر سکتی ہے ؟ دیکھو آپ نے آج سے ڈیڑھ سال پہلے بتا دیا تھا کہ میں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو وفات پاؤں گا اور اس دن لوگ خوشیاں منائیں گے ۔ مگر بر خلاف اس کے اس نے ۴ / اگست کی تاریخ بتائی تھی۔ پس خدا تعالیٰ نے جھوٹے اور بچے میں فرق کر دکھایا ۔ پھر بار بار اس شخص کا اپنی سچائی پر زور دینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔ جبکہ اس کی اپنی قلم کا لکھا ہوا الهام موجود ہے کہ اب ۱۴ ماہ والی پیشگوئی کی جگہ مرزا م / اگست کو فوت ہو گا۔ اور اس کے دستخط کا فوٹو پیسہ اخبار لاہور میں شائع ہو چکا ہے۔ اور اہل حدیث اور وطن میں بھی اس کی طرف سے یہ الہام درج ہے۔ تو کیا اب یہ انکار کر سکتا ہے کہ میں نے پیشگوئی نہیں کی تھی۔ دیکھو بچوں اور جھوٹوں کا فرق کہ بچے تو بعض اوقات افسوس کرتے ہیں ۔ کہ یہ پیشگوئی شائع نہیں کی۔ مگر جھوٹے جو شائع کر بیٹھے ہیں اس پر بھی شرمندہ اور پریشان رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کاش ہم یہ پیشگوئی شائع نہ کرتے ۔ اور ایسا ہی حال عبدالحکیم کا ہوا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ الفاظ اس کے الہام کے پیسہ اخبار وغیرہ میں شائع ہو چکے ہیں پھر بھی اب یہ انکار کرتا ہے۔ اور اپنے رسالہ میں لکھتا ہے کہ میں نے ۴/ اگست تک کی پیشگوئی کی تھی جو پوری ہوئی۔ مگر ہم اس کا جواب سوائے لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل ل عمران : ۶۲) کے اور کیا دے سکتے ہیں۔ اگر پیسہ اخبار وطن اہل حدیث اور یونین گزٹ بریلی میں اس کا یہ الہام شائع نہ ہو چکا ہو تا تو یہ جتنا چاہتا جھوٹ بول سکتا تھا مگر خدا نے اسے ناک سے پکڑ لیا ہے اب یہ بیچ کس طرح سکتا ہے۔ افسوس رسول ہونے کا دعوئی اور اس قدر جھوٹ - کیا مسیلمہ کذاب اس سے زیادہ جھوٹ بولتا تھا۔ نہیں ۔ زمانہ کی ترقی کے ساتھ مسیلمہ کی روح نے بھی ترقی کی ہے اور آگے سے زیادہ افتراء پردازی پر کمر باندھی ہے۔ الغرض اس شخص نے ۴/ اگست کو حضرت اقدس کی تاریخ وفات مقرر کی تھی مگر آپ ۲۶ / مئی کو فوت ہو کر شیطانی الہاموں