انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 97

انوار العلوم جلد ! १८ صادقوں کی روشنی تھا جو کہ لفظ بہ لفظ پورا ہوا ۔ اور وہ یہ ہے - قُلْ إِنَّ صَلوتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ چنانچہ اس کے مطابق حضرت اقدس کی وفات ایک نشان کے طور پر ہوئی ۔ اور خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی ہوئی۔ پھر ایک پیشگوئی ہے جس میں موت کی پیشگوئی بھی ہے اور جماعت کو بھی تسلی ہے کہ موت قریب - إِنَّ اللَّهَ يَحْمِلُ كُلَّ حِمل یعنی تیری موت قریب ہے۔ تو اپنے بعد جماعت کا فکر نہ کر کیونکہ خدا وند تعالیٰ وہ تمام بوجھ خود اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ اور بھی الہامات ہیں۔ جو آپ کی موت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مگر بوجہ طوالت کے میں انکو یہاں درج نہیں کرتا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت نے آج سے اڑھائی برس پہلے اپنی وصیت شائع کر دی تھی۔ اور اس میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور عنقریب میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور خدا کی تقدیر پوری ہونے والی ہے اور میں انبیاء کی سنت کے مطابق اس طرح فوت ہوں گا کہ لوگ سمجھیں گے کہ ناکامی رہی۔ مگر اصل میں ناکامی نہ ہوگی۔ اور خدا اپنی پوری طاقت اور جلال کے ساتھ میرا نام روشن کرے گا۔ اور دنیا پر میری سچائی کو ظاہر کر دے گا۔ وہ لوگ جو اس وقت زندہ رہیں گے وہ میری سچائی کو آنکھوں سے دیکھیں گے اور یہ وعدہ نہیں ملے گا جب تک خون کی ندیاں نہ بہادی جائیں۔ اور عذاب الہی اس وقت تک نازل ہوتے رہیں گے اور مصیبتیں دنیا کو نہیں چھوڑیں گی جب تک کہ خدا کا نام دنیا پر روشن نہ ہو اور جب تک کہ وہ لوگ جو رات دن گناہوں میں پڑے رہتے ہیں اپنے افعال و اقوال سے باز نہ آئیں اور خدا کے لئے اپنے نفس کی قربانی نہ کریں اور خدا کے ارادہ کو اپنے لئے قبول نہ کریں اور میری سچائی پر ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کے برگزیدہ نبی محمد مصطفیٰ اس کو تو مردہ خیال کیا جائے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اب تک آسمان پر زنده به جسم عصری مانا جائے ۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے اور ہمارے پاک نبی ا کی اس قدر تک ہے کہ خداوند تعالیٰ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کر سکتی اور ضرور ہے کہ وہ دنیا سے اس شرک کی بیخ کنی کرے۔ اور پھر متواتر وحی سے اس بات کی تائید ہوتی رہی اور خدا وند تعالیٰ نے بار بار آنے والے واقعہ کی خبردی اور اس طرح کھلم کھلا اعلان کیا گیا کہ دوست تو دوست دشمنوں کو بھی اس سے انکار نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے تاریخ اور سال تک بھی مقرر کر دیا۔ چنانچہ آپ زندگی والی خواب میں بتا دیا کہ دو تین سال کے اندر اندر ہی آپ وفات پائیں گے اور ۲۲۳ دن والی رویا میں ۲۶ / مئی اور لیپ ایر بتا دیا ۔ یعنی ۱۹۰۸ء میں ۔ پس اب سوائے کسی بد بخت اور کو رباطن انسان کے