انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 92

انوار العلوم جلد 1 ۹۲ صادقوں کی روشنی (رسالہ الوصیت صفحه روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۹) اور پھر آپ کی وصیت پر ہی بس نہیں ہوئی ہوئی۔ بلکہ اس کے شائع ہونے کے بعد بھی متواتران الہامات کا سلسلہ جاری رہا۔ اور خدا تعالیٰ نے بار بار اپنے بندے کو اس بات کی اطلاع دی کہ اب تیرا وقت قریب آگیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت اور دیگر جماعت کی تسلی کے لئے بھی کلام الہی نازل ہوتا رہا۔ چنانچہ مندرجہ ذیل الہامات اور رویائے صالحہ جو اس بارے میں ہوئے اختصار کے ساتھ یہاں بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔ "رویا میں میں نے مولوی عبد الکریم صاحب کو دیکھا اور فوت شدہ خیال کر کے ان سے کہا کہ میری عمر اتنی ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے ۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیلدار ۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ غیر متعلق بات کیوں کرتے ہیں۔ جس امر کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کریں تو انہوں نے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر آگے نہ اٹھائے۔ اور کہا کہ اکیس ۔ اکیس اکیس اور یہی کہتے ہوئے چلے گئے " اب اس خواب پر غور کرتے ہوئے ہر ایک صاحب بصیرت دیکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔ کہ حضرت اقدس کے دعا کے لئے کہنے پر مولوی صاحب نے شرح صدر سے دعا نہیں کی۔ کیونکہ ان کو خدا کی طرف سے علم دیا گیا تھا۔ کہ جس قسم کی تکمیل حضرت اقدس چاہتے ہیں وہ نہ تو انبیاء کی سنت سے ہے۔ اور نہ آپ کو اتنی عمر منی ہے۔ اس لئے انہوں نے منہ تک ہاتھ اٹھانے کی بجائے سینہ تک ہاتھ اٹھا کر روک لئے اور اس بات کو خود حضرت اقدس نے بھی محسوس کیا۔ کیونکہ آپ نے خواب کو لکھتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ کہ مولوی صاحب نے مینہ تک ہاتھ اٹھائے ہیں اور آگے نہیں اٹھائے۔ پھر مولوی صاحب کا اکیس اکیس۔ اکیس کہنا ظاہر کرتا ہے۔ کہ اکیس کا لفظ آپ کی تبلیغ کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ آپ کا سوال مولوی صاحب سے یہ تھا کہ مجھ کو اتنی عمر ملے کہ سلسلہ کی تبلیغ کے لئے کافی ہو اور اس کے جواب میں موادی صاحب نے اکیس کا لفظ فرمایا ہے ۔ یعنی تمہاری اس تبلیغ کا وقت اکیس تک ہو گا۔ چنانچہ واقعات کو دیکھنے سے اس خواب کی سچائی بڑے زور سے ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت اقدس کا اشتهار بیعت جمادی الاول ۱۳۰۶ھ میں شائع ہوا ہے۔ اور اکیسویں سال اس مہینے میں آپ کا انتقال ہوا۔ اور اسی طرح ۱۸۸۸ء میں اشتہار بیعت نکلا ۔ اور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی۔ جس سے اس خواب کی تعبیر خوب واضح ہو گئی۔ کہ اس خواب سے یہ مراد تھی کہ اکیسویں سال آپ کی وفات ہو گی۔ پس ہر ایک عقلمند اور دانا اس بات سے نصیحت پکڑ سکتا ہے۔ اور دیکھ سکتا ہے کہ خداوند تعالی کا کلام اس