انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 83

انوار العلوم جل 1 ۸۳ محبت الهی خصوصیت اسلام میں یہ بتائی ہے کہ اس میں محبت کرنے والے کو بالکل صاف جواب نہیں ملتا بلکہ خدا تعالی اس کے امتحان کے بعد اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس محبت کی گرمی کو جو محبت کرنے والے کے دل میں ہر ایک چیز کو جلا رہی ہوتی ہے اپنے تسکین وہ کلام سے ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سوزش اور جلن کو دور کرتا ہے جو کہ جواب کے نہ ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح محبت اور بھی چمک اٹھتی ہے اور اس کے دل میں ایک جوش پیدا ہوتا ۔ جوش پیدا ہوتا ہے کہ میں خدا کے اور بھی قریب ہو جاؤں اور اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ یہاں تک نزدیک ہو جاتا ہے کہ خدا تعالٰی اس کی نسبت فرماتا ہے انتَ مِنی و انا منك یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے : سے ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا نام دنیا میں تیرے سبب سے ظاہر ہے اور تیری عزت میرے سبب سے ہے اور در حقیقت خدا تعالی کے نام کا جلال دنیا پر ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ اس کی محبت کے دریا میں غرق ہوتے ہیں اور ان کی عزت صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔ میں محبت الہی کے لفظ پر جس قدر سوچتا ہوں اسی قدر ایک خاص لذت اور وجد دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیارا ہے مذہب اسلام جس نے ہم کو ایسی نعمت کی طرف ہدایت کی ہے جس سے ہمارے دل روشن اور ہمارے دماغ منور ہوتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم ہمارے زخمی دلوں کے لئے ایک مرہم کا کام دیتی ہے اور اگر اسلام نہ ہوتا تو بخدا اطالب حق تو زندہ ہی مر جاتے اور وہ جن کے دلوں میں محبت کا ذوق ہے ان کی کمر ٹوٹ جاتی۔ اور محبت ایک نا ممکن وجود سمجھی جاتی۔ اور اس کو و ہم سے موسوم کیا جاتا۔ کیونکہ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے ہم محبت کر سکیں تو وہ محبت کے وجود میں شک لانے کے سوا اور کیا کر سکتے ۔ خدا نے اسلام سانڈ ہب انسان کو عطا کر کے غمگین دلوں کو تسکین دی ہے۔ اور زخمی سینوں کو مرہم عنایت کی ہے۔ جب ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان دیکھتا ہے کہ وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں ایک ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے۔ اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے وہ سنتا ہے اور بولتا ہے اور پھر یہ کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے سے محبت کرنے والے کو بدلہ دے تو اس وقت وہ اپنے دل میں اس محبت کی وجہ سے ایک خوشی حاصل کرتا اور خاص لذت محسوس کرتا ہے۔ اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ہم سب کو خدا کے ساتھ اخلاص اور محبت نصیب ہو اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں ہدایت پائیں اور اس ہستی سے محبت کریں جو کہ محبت کے لائق ہے ۔ آمین۔ تشحید الاذہان مارچ ۱۹۰۷ء ) خاکسار میرزا محمود احمد