انوارالعلوم (جلد 1) — Page 80
انوار العلوم جلد 1 ۸۰ محبت الهی یا د رکھنا چاہئے کہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ ہر ایک زمانہ کے لوگوں کا دل تسلی پا سکتا ہے۔ اگر کسی زمانہ میں الہام ہوتا تھا تو آج کیوں نہیں ہوتا کیا خدا پچھلے زمانہ میں بولتا تھا اور راب نہیں بولتا کیا وہ کسی زمانہ میں سنتا تھا اور اب نہیں سنتا۔ وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے وہ اب نہیں بولتا ؟ ایک طالب حق جو کہ دن رات اٹھتے اور بیٹھتے خدا تعالیٰ کی محبت ہی میں محو رہتا ہو اس کے لئے یہ کیسی کمر توڑ دینے والی بات ہے کہ خدا نے کسی زمانہ میں کلام کیا تھا مگر وہ اب کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔ آخر اس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے تھی جب بولنا خدا کی صفت ہے تو کیا خدا کی صفات معطل بھی ہو جایا کرتی ہیں ؟ اگر معطل ہو جاتی ہیں تو خدا قادر مطلق اور ازلی ابدی کیونکر ہو سکتا ہے۔ اگر معطل نہیں ہوتیں تو اب وہ کیوں نہیں بولتا ؟ یہ سوال ہیں جو کہ ایک محقق کے دماغ میں فورا گونج اٹھتے ہیں جبکہ وہ یہ عقیدہ سنتا ہے اور اس کا جواب کوئی اور مذہب سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں دیتا مگر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ اس کا دندان شکن جواب دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ جو لوگ سلسله الهام الہام کو منقطع خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اس لئے یہ سوال ہی لغو ہے ۔ خدا بولتا تھا اور اب بھی بولتا ہے چونکہ یہ اس کی صفت ہے کہ وہ بولتا ہے اس لئے یہ معطل نہیں ہو سکتی اور یہ اسلام کا دعوی ہی نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی وہ دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے آدمی موجود رہتے ہیں جو الہام الہی سے مستفیض ہوتے ہیں اور ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا ہے جو الہام کے جھٹلانے والوں کے رد میں ایک زندہ دلیل ہوتا ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ آیا کسی شخص کو واقعی الہام ہوتا ہے یا نہیں خدا تعالیٰ نے یہ علامت رکھی ہے کہ ایسا شخص غیب کی خبریں بتاتا ہے اور وہ پوری ہوتی ہیں مگر اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ہر ایک غیب اس پر ظاہر ہوتا ہے بلکہ میرا مطلب اس سے یہ ہے ہے کہ بعض خبریں غیب کی خدا تعالی پیش از وقت بتاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا ثبوت دے کہ در حقیقت یہ شخص جھوٹا نہیں ہے بلکہ میری طرف سے ہے اور اس کا دعوی سچا اور بادلیل ہے مگر چونکہ غیب کی خبریں تو بعض دفعہ نجومی اور جو تشی بھی دیتے ہیں اور بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ ان کی باتیں پوری ہو جاتی ہیں کیو نکہ وہ ہر موسم میں کچھ نہ کچھ بکتے رہتے ہیں آخر کوئی نہ کوئی بات پوری ہونی ہی ہوئی اور پھر یہ کہ ایک کہتا ہے بارش ہو گی۔ دوسرا کہتا ہے کہ نہیں ہوگی آخر ان دونوں میں سے ایک کی بات تو پوری ہو گی پس جس کی بات پوری ہو گئی اس کی دھاک بندھ گئی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے پاک بندوں اور ان دنیا کے کیڑوں کے درمیان فرق رکھا ہے ایک تو یہ ہے کہ نجومی کی بات تو کبھی پوری ہوتی ہے اور کبھی