انوارالعلوم (جلد 1) — Page 71
انوار العلوم جلد 1 محبت الهی قریب قریب ہو اور بوجہ تعلیم کے ناقص ہونے کے وہ دوسرے الفاظ اور دوسرے معنوں میں استعمال کیا گیا ہو جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ بہر حال اسلام نے اس عقیدہ کو ایسے طریق اور ایسے روشن پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ اب میں اپنے اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ کہ اسلام نے ہم کو ایسے عقیدہ کے متعلق رہنمائی کی ہے جس سے کہ انسان بہت کچھ روحانی ترقی کر سکتا ہے اور وہ کمزوریاں اور نقائص جو کہ انسان میں بوجہ اس کے طبعی خاصہ کے ہوتے ہیں اس عقیدہ پر ایمان لانے اور اس کے معارف پر غور کرنے سے خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔ میں اس مسئلہ کے متعلق زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے امام و مرشد نے جلسہ مہوتسو کے موقعہ پر ایک لیکچر تحریر کیا تھا اس میں خوب اچھی طرح اور واضح طور سے اس مسئلہ کو حل کیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ یہ مسئلہ سوائے اسلام کے اور کسی نے اس طرح نہیں بیان کیا کہ جس سے انسان ہدایت پا سکے اس لئے جو صاحب اس کی نسبت مفصل علم حاصل کرنا چاہیں وہ اس لیکچر کو پڑھیں۔ اب میں خدا تعالیٰ کے متعلق اسلام کا عقیدہ بیان کرتا ہوں۔ دیکھنا چاہئے کہ دنیا کا جو مذہب ہے (بشرطیکہ وہ خدا کا قائل ہو) اگر چہ خدا کے کتنے ہی شریک ٹھراتا ہو مگر آخر توحید کا قائل ہوتا ہے اور کسی نہ کسی طرح آخری نقطہ پر پہنچ کر وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خدا ایک ہے اس وقت کے مشہور مذاہب کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ان میں سے عیسائیت توحید کی سخت دشمن ہے مگر اس میں بھی یہ عقیدہ ہے کہ باپ بیٹا روح القدس تین خدا ہیں مگر نہیں تین نہیں ایک خدا ہے اور اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر چہ انہوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی ان کو فطرت کے تقاضا سے مجبور ہو کر کوئی ایسا طریق ایجاد کرنا پڑا ہے جس سے توحید میں خلل نہ آئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندو بھی باوجود کروڑوں بت ماننے کے اپنے آپ کو ایک ہی خدا کا قائل بتاتے ہیں اور یہودی اور آریہ بھی توحید کے عقیدہ پر ہی زور دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا عقیدہ انسان کی فطرت کے موافق ہے اور گو کہ امتداد زمانہ سے کسی مذہب میں کتنا ہی شرک ترقی کر جائے مگر پھر بھی اس کے پیرو توحید کو نہیں چھوڑتے اور ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں کہ توحید ہی در حقیقت سچ ہے اور وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں غلطی پر ہیں اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اسلام کے توحید پر کسی نے زور نہیں دیا اور نہ کسی مذہب نے توحید کا ثبوت دیا ہے۔ عیسائی اگر ایک طرف توحید کے قائل ہیں تو ساتھ ہی تثلیث پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ یہودیوں نے اگرچہ توحید میں کوئی خرابی نہیں پیدا کی