انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 76

انوار العلوم جلد ۱۹ ۷۶ قومی ترقی کے دوا ہم اصول سے نادان مسلمان مرتد ہو گئے تاریخوں میں آتا ہے کہ صرف تین جگہیں ایسی رہ گئی تھیں جہاں مسجدوں میں باجماعت نماز ہوتی تھی ۔ اسی طرح ملک کے اکثر لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے زکوۃ ۔ وۃ مانگے ۔ جب یہ رؤ سارے عرب میں پھیل گئی اور حضرت ابو بکر نے ایسے لوگوں پر سختی کرنی چاہی تو حضرت عمر اور بعض اور صحابہ حضرت ابو بکر کے پاس پہنچے اور انہوں نے عرض کیا کہ یہ وقت سخت نازک ہے اس وقت کی ذرا سی غفلت بہت بڑے نقصان کا موجب ہوسکتی ہے اس لئے ہماری تجویز یہ ہے کہ اتنے بڑے دشمن کا مقابلہ نہ کیا جائے اور جو ز کوۃ نہیں دینا چاہتے ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ تم میں سے جو شخص ڈرتا ہو وہ جہاں چاہے جائے خدا کی قسم ! اگر تم میں سے ایک شخص بھی میرا ساتھ نہ دے گا تو بھی میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا اور اگر دشمن مدینہ کے اندر گھس آئے اور میرے عزیزوں ، رشتہ داروں اور دوستوں کو قتل کر دے اور عورتوں کی لاشیں مدینہ کی گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں ان سے جنگ کروں گا اور اُس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک یہ لوگ اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی وہ رسی بھی جو پہلے زکوۃ میں دیا کرتے تھے نہ دینے لگ جائیں گے چنانچہ انہوں نے دشمن کی شرارت کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا اور آخر کامیاب ہوئے صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے اسی لئے انہوں نے مشورہ دینے دینے والے صحابہ کو کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی شخص میرا ساتھ دے یا نہ دے میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا یہاں تک کہ میری جان خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو جائے ۔ پس جس قوم کے اندر یہ عزم پیدا ہو جائے وہ ہر میدان میں جیت جاتی ہے اور دشمن کبھی اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا ۔ اپنے مقصد کی کامیابی پر یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو کسی قوم کو بام رفعت پر پہنچا سکتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ہماری جماعت کے لوگوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے ۔ انہیں جان لینا چاہئے کہ جو مقصدِ عالی ان کے سامنے ہے سوا کسی اور نے نہیں کرنا اور یہ کام چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اس ۔ اسے ہمارے سوا لئے کس قدر بھی زیادہ قربانیاں ہمیں اس کے لئے کیوں نہ کرنی پڑیں ہم ان سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہمارے سامنے تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ لوگوں نے اپنے آقاؤں کے