انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 600

انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۰۰ مسلمانان بلو چستان سے ایک اہم خطاب سے کشمیر میں لڑنے والے مجاہدین کو کچھ نہ کچھ مدد پہنچتی رہے تو چاہے وہ مد دکتنی ہی قلیل ہو وہ لوگ سمجھیں گے کہ پاکستان کا ہر فرد ہم سے ہمدردی رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے ہماری بے سروسامان فوج کے حوصلے پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جائیں گے پس آپ لوگ یہ نہ دیکھیں کہ آپ جو قربانی کر رہے ہیں وہ کتنی حقیر ہے یا آپ کی طرف سے جو انہیں مدد دی جا رہی ہے وہ کتنی قلیل ہے آپ اس امر کو مد نظر رکھیں کہ آپ لوگوں کی حقیر سے حقیر مدد بھی یہاں سے پانچ سات سو میل پر لڑنے والی مسلمان فوج کے حوصلوں کو بڑھا دے گی اور اُن کی کمر ہمت کو مضبوط بنادے گی ۔ میں نے سنا ہے کہ یہاں سے ایک رئیس کے قبیلہ کے کچھ لوگ وہاں گئے ہیں مگر ایک قبیلہ کے کچھ لوگوں کا چلے جانا اور ساروں کا ایسی متفقہ کوشش کرنا جس سے معلوم ہو کہ ہر مسلمان مرد اور عورت اور بچہ اُن سے ہمدردی رکھتا ہے دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔ اگر ہماری طرف سے اُنہیں تھوڑی بہت مدد برابر پہنچتی رہے تو یہ چیز ان کے حوصولوں کو بڑھانے کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ آپ لوگ یہ مت دیکھیں کہ آپ زیادہ روپیہ نہیں دے سکتے آپ لوگ خواہ پیسہ پیسہ سے مدد کریں بہر حال یہ مدد متفقہ اور مسلسل ہونی چاہئے اگر اس رنگ میں اُن کی مدد کا سلسلہ جاری رہے تو وہ سمجھیں گے کہ ہماری موت بیکار نہیں جائے گی بلکہ ہماری قوم ہمارے نام کو عزت کے ساتھ یاد کرے گی اور یہ چیز خود اپنی ذات میں ایسی اہمیت رکھتی ہے کہ لوگ اس کے لئے بڑی بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ پس اس طرح بھی میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ بلوچستان کشمیر سے بہت دور ہے اگر اتنی دور سے اور بلوچستان کے غیر معروف علاقوں سے بھی اُن کو مدد پہنچنی شروع ہو جائے تو لڑنے والے سپاہیوں کے حوصلے پہلے سے بہت زیادہ بلند ہو جائیں گے ۔ ابھی اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے لاہور میں ایک ڈاکٹر صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے وہ پونچھ کے محاذ پر کام کرتے رہے ہیں میں نے اُن سے کہا کہ فوجی افسر تو وہاں کے حالات خطرناک بتاتے ہیں آپ یہ بتائیں کہ ہمارے سپاہیوں کی کیا حالت ہے آیا وہ تو مایوس نہیں؟ اُنہوں نے کہا ہمارے سپاہیوں کو پتہ ہی نہیں کہ اُن کا دشمن کتنا طاقتور ہے اور وہ اب تک بڑی دلیری سے لڑ رہے ہیں۔ میں نے کہا چلو یہ بھی خوشی کی بات ہے اگر سپاہی کا دل ٹوٹ