انوارالعلوم (جلد 19) — Page 594
انوار العلوم جلد ۱۹ مالد مسلمانان بلو چستان سے ایک اہم خطاب چونکہ اس پر زور نہ دیا گیا اس لئے دشمن نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ہمارے پولیٹیکل رائٹ تھے کے ماتحت رحم جو مسلمانوں نے تسلیم کر لئے تھے حالانکہ وہ پولیٹیکل رائٹ نہیں تھے بلکہ اسلامی تعلیم کے مام دلی اور محبت کا ایک سلوک تھا جو اُن سے کیا گیا تھا۔ تھا ۔ غرض غیر مذاہب کے متعلق یہ تعلیم ایسی ہے جس پر تیرہ سو سال سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اگر آج بھی ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں سے یہ کہا جائے کہ پاکستان میں مسلمانوں کیلئے تو قرآن کریم اور سنت کے مطابق قانون بنا لئے جائیں گے لیکن اگر عیسائی چاہیں کہ انجیل کے مطابق ان کے قانون ہوں یا ہندو چاہیں کہ ویدوں کے مطابق ان کے قانون ہوں یا انجیل اور تو رات اور ویدوں کی بجائے کوئی او ئے کوئی اور قانون اپنے لئے پسند کر لیں تو اس میں انہیں آزادی ہوگی اور حکومت اپنے مذہبی قوانین ان پر ٹھونسنے کی کوشش نہیں کرے گی تو یقیناً ہم نہ صرف وہ بات پیش کریں گے جو اسلام کا عین منشاء ہے اور جس پر تیرہ سو سال سے عمل ہوتا چلا آیا ہے بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مسلمان جو انڈین یونین میں بس رہے ہیں ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ باقی رہے پاکستان کے مسلمان سو یہ تو واضح بات ہے کہ جب نوے فیصدی مسلمان ممبر ہوں گے تو ان کی جو رائے ہو گی بہر حال قرآن کریم کے مطابق ہی ہوگی ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان یہ رائے دے کہ ویدوں کی فلاں بات پر عمل ہونا چاہئے یا تو رات کی فلاں بات پر عمل ہونا چاہئے ۔ بہر حال وہ اسلامی قانون کے حق میں رائے دے گا اور اس طرح بغیر کسی خطرہ کے پاکستان میں مسلمانوں کے لئے جو بھی قانون بنے گا وہ قرآن اور سنت کے مطابق ہو گا لیکن یہ کہنا کہ ہم لٹھ کے زور سے اسلامی حکومت قائم کریں گے یہ ایک ایسی بات ہے جس کی اسلام تعلیم نہیں دیتا۔ پس سب سے پہلی بات جو میں آپ لوگوں کی خدمت میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم سطحی باتوں کی طرف جائیں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہر مسلمان سچا مسلمان بن جائے اور ہر مسلمان قرآن کریم پر عمل کرنے لگے ۔ اگر ہم اصولی نکتہ کو نظر انداز کر دیں گے تو یقیناً اسلامی حکومت کے قیام میں ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ مثلاً مسلمانوں میں اس وقت سینما کا عام رواج ہے اور وہ سینما دیکھنا کوئی معیوب بات نہیں سمجھتے ۔ اس کے مقابلہ میں جب اسلامی تعلیم کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے